fbpx

نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف نہ لینے کی درخواست ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف نہ لینے کی درخواست ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا
حمزہ شہباز کی وزیراعلیٰ کے عہدہ کا حلف نہ لینے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

گورنر پنجاب نے حلف نہ لینے کی وجوہات صدرکو لکھ کردینے سے متعلق ٹائم فریم دینے سے انکار کر دیا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرادیا دوبارہ عدالت میں سماعت ہوئی تو ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ مزید 24 گھنٹے میں وجوہات صدرکودے دی جائیں گی ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ آپ نے اورتوکچھ نہیں کہنا؟ جس پر ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ نہیں اورکچھ نہیں کہنا،گورنرفوری طور پر صدر کو وجوہات نہیں دے سکتے، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ گورنر 24 گھنٹے میں صدر کو وجوہات لکھیں گے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کے وکیل سے استفسار کیا کہ عدالت کے پاس اب کیا حل ہے؟ عدالت نے گورنر کی معذرت کے بعد صدر کو نمائندہ مقرر کرنے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ عدالت کا حکم صدر پاکستان کو بھجوایا جائے،لاہور ہائیکورٹ نے نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف نہ لینے کی درخواست نمٹادی

قبل ازیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ میں نے عدالتی حکم پر گورنر پنجاب سے ملاقات کی ،دو تین اعتراضات ہیں جو پیش کرنا چاہتاہوں گورنر پنجاب کے بعد اسپیکر حلف لے سکتا ہے حمزہ شہباز نے درخواست میں ا سپیکر کو فریق نہیں بنایا

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ گورنر پنجاب نے حلف نہ لینے کا کوئی جواز بتایا ہے ؟جیسے صدر نے بتا دیا تھا کہ وہ موجود نہیں ہیں گورنر پنجاب اگر حلف نہیں لینا چاہتے تو وجہ بھی بتانا ہوگی،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ گورنر سمجھتے ہیں کہ انتخاب آئین کے تحت نہیں ہوا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ گورنر جاکر انتخاب دیکھے گا، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ گورنر کوئی ربڑ اسٹیمپ نہیں ہے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ گورنر کا عہدہ بہت اہم ہے،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ گورنر پنجاب آئین کے محافظ ہیں،جہاں الیکشن غیر جانبدار ہوں وہ آئینی اختیارات استعمال کرتا ہے،عالت نے استفسار کیا کہ کہاں لکھا ہے کہ اسپیکر کی موجودگی میں گورنر الیکشن دیکھے گا ،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ گورنر نے آئین کے تحت کام کرنا ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کی خواہش ہے کہ گورنر قانون کے مطابق کام کریں اسمبلی میں عدم اعتماد کی جو رائے شماری ہوئی گورنر عمل کے بجائے بیٹنا چاہتے ہیں، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ مجھے جواب اور تیاری کے لیے مہلت دی جائے،لاہور ہائیکورٹ نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسکا مطلب آپ سنجیدہ نہیں ہیں اتنے طویل عرصے سے وزیر اعلیٰ نہیں، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن بھی ہم نے کروایا،عدالت نے کہا کہ پورا سسٹم بند پڑا ہے حکومت کے پاس اور کیا کام ہے؟یہ اہم کام ہے اور گورنر پنجاب خاموش ہیں ، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ مجھے پیر تک کی مہلت دی جائے،گورنر پنجاب نے حلف لینے سے انکار کر دیا ہے،عدالت نے کہا کہ مجھے گورنر کے تحریری انکار دیں،

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس گورنر پنجاب سے ہدایات لیکر پیش ہوگئے اور کہا کہ گورنر کی حلف نہ لینے کی وجوہات صدر کو بھیج رہے ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 21روز ہو چکے ہیں صوبے کا کوئی وزیر اعلیٰ نہیں ہے، چیف جسٹس امیر بھٹی نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپکی تجویز سے اتفاق نہیں کرتا ،گورنر کب وہ وجوہات بھیج رہے ہیں،میں نے آپ کو ایک گھنٹہ دیا تھا، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ گورنر پنجاب کسی عدالت کو جواب دہ نہیں ہیں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر پنجاب 4 دن سے یہ معاملہ لے کر بیٹھے ہوئے ہیں،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ گورنر پنجاب صدر کو حلف نہ لینے کی ساری وجوہات بیان کریں گے،کسی کو بھی آئین سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ ساری وجوہات بالکل لکھیں لیکن وہ کب لکھیں گے ؟ آپ یہ بات گورنر پنجاب کو بھی بتا دیں جو یہاں عدالت میں بتا رہے ہیں اس سسٹم کو تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتے، بچانے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے گورنر پنجاب 4 دن سے یہ معاملہ لے کر بیٹھے ہوئے ہیں, گونرر پنجاب 5 دن سے بیٹھے ہیں حلف نہیں لے رہے عدالت کس سے پوچھے ،حکومت کی عدم موجودگی کے باعث میں تین میٹنگز موخر کر چکا ہوں پنجاب حکومت کا جواب چاہیے تھا لیکن صوبے میں کوئی حکومت ہی نہیں ہے ،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں حکومت آئین کے مطابق چل رہی ہے,چیف جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ پنجاب میں نہ حکومت ہے نہ ہی کابینہ, ،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ اگر گورنر نے کوئی چیز پوچھی تو میں نے آئین سے دیکھ کر بتا دیا،عدالت نے کہا کہ 2 بجے تک گورنر نے کوئی فیصلہ لے لیا تو ٹھیک ورنہ عدالت اپنا حکم پاس کرے گی،

گورنر پنجاب نے حلف سے انکار کا تحریری جواب دینے کے لیے مہلت طلب کر لی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر اپنی آئینی زمہ داریاں پوری نہیں کر رہے. ڈپٹی اسپیکر نے انتخابات کروا کر اسی رات گورنر کو آگاہ کر دیا. ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ الیکشن قوانین کے تحت نہیں ہوئے اور صورتحال غیر یقینی ہوئی.چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے سامنے یہ مسئلہ نہیں ہے. گورنر حلف پر سونے کی بجائے ایکشن لیتے. ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ہم نے آئین پاکستان کی پاسداری کرنی ہے. گورنر پنجاب نے حلف سے انکار کی تحریری وجوہات دینے کئے مہلت طلب کی ہے اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ غلط ہوا.گورنر نے حلف سے انکار کر دیا ہے. وہ اپنے انکار کی وجوہات صدر پاکستان کو بھیج دیں گے ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ یہ صورتحال ہے دوسرے اداروں کے ساتھ کیا ہو گی.ہم دفاع کے لیے بیٹھے ہیں, گورنر قابل احترام ہیں انکا احترام لازم ہے, گورنر کو بھی سوچنا ہوگا کہ انہوں نے احترام کرنا ہے یا نہیں. یہ باتیں جا کر گورنر کو بتائیں کہ انکے لئے عہدہ کتنا اہم ہے.
ہم سب نے مل کر سسٹم کو بچانا ہے.ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ اسکے لئے مہلت دی جائے. عدالت نے کہا کہ عدالت گورنر سے بہت توقعات رکھتی ہے.

زخمی ہونے کے بعد پرویز الہیٰ کی ہاتھ اٹھا کر بددعا، ویڈیو وائرل

حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، شہزاد اکبر کو کیوں نکالا؟

عمران خان کے مشیر بیرون ملک روانہ

میری جان سے زیادہ پاکستان کی آزادی ضروری ، فوری الیکشن چاہتے ہیں ، عمران خان

کراچی جانے کیلئے عمران خان کو جہاز کس نے دیا؟ بحث چھڑ گئی

این اے 33 ہنگو،ضمنی انتخابات، پولنگ جاری،سیکورٹی سخت

پنجاب اسمبلی، ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج