سپریم کورٹ؛ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی پر اہم فیصلہ جاری

0
60
supreme court01

سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی پر اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کا پارلیمانی کمیٹی جائز نہیں لے سکتی، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کی مہارت جوڈیشل کمیشن ممبران سے یکسر مختلف ہے۔ پشاورہائیکورٹ کےایڈیشنل ججزکی تعیناتی کے کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ بھی جاری کیا۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ میں لکھا کہ عدلیہ کی آزادی ملک کو آئین کے تحت چلانے کیلئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے، آئین میں ریاست کے تینوں ستونوں کے اختیارات واضح ہیں۔
فیصلے کے مطابق سنیارٹی کا اصول سول سروس میں محکمانہ پروموشن کمیٹی کیلئے بنیادی جزو ہے، صرف سنیارٹی کی بنیاد پر کسی کو ترقی نہیں دی جا سکتی، ترقی اور اعلیٰ تقرری کیلئے سنیارٹی کیساتھ میرٹ اور اہلیت بنیادی جزو ہے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا کہ سنیارٹی کا جائزہ اُسی وقت لیا جاتا ہے جب میرٹ اور اہلیت پر تمام امیدوار یکساں ہوں، میرٹ سسٹم کے تحت ہی اہل اور قابل افراد کو آگے آنے کا موقع ملتا ہے۔
فیصلے کے مطابق ججز تقرری کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن میں تمام ارکان یکساں اہمیت کے حامل ہیں، جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کا پارلیمانی کمیٹی جائز نہیں لے سکتی، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کی مہارت جوڈیشل کمیشن ممبران سے یکسر مختلف ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا کام نامزد ججز کی اہلیت اور قابلیت کا جائزہ لینا ہے، پارلیمانی کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن دونوں اپنی حدود میں رہ کر ہی کام کر سکتے ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں مزید لکھا کہ پارلیمانی کمیٹی کا فیصلہ مفروضوں اور من پسند آبزرویشنز پر مبنی نہیں ہوسکتا، پارلیمانی کمیٹی ججز کے نام منظور یا مسترد کر سکتی ہے، کمیشن کو واپس نہیں بھیج سکتی۔

فیصلے کے مطابق عدالتوں کو ماضی کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ فیصلے کیخلاف دائر اپیلیں خارج کر دیں۔
ججز تقرری کیلئے قائم پارلیمانی کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن کو سنیارٹی اصول کے مطابق سفارشات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔
پشاور ہائی کورٹ نے پارلیمانی کمیٹی کی سفارش کالعدم قرار دی تھی جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ۔

پشاورہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ جاری کیا۔
اختلافی نوٹ میں لکھا کہ عدلیہ کی آزادی کیلئے تقرریوں میں شفافیت اہم ہے، تقرری میں شفافیت، احتساب، عوام کے اعتماد کو تقویت دیتا ہے۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے اختلافی نوٹ میں مزید لکھا کہ شفاف عمل کو اپنا کر ہی عدالتی آزادی کو فروغ دیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ کے جج کے اختلافی نوٹ کے مطابق من مانی فیصلے کا غیر منظم استعمال عدلیہ کی آزادی کو ختم کرتا ہے۔ میرٹ پر جج کی تقرری اہل افراد کی شناخت سے تقرری تک شفافیت سے ہی ممکن ہے۔

Leave a reply