فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی

عدالت نے متعلقہ فریقن کو نوٹس جاری کردئیے
0
113
supreme court01

اسلام آباد: فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی جانب سے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی گئی۔

باغی ٹی وی : اتوار کے روز فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ بذریعہ اٹارنی جنرل آفس سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی، سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی سماعت 6 مئی بروز پیر کو ہوگی، جس میں سپریم کورٹ فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن رپورٹ کا جائزہ لے گی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی سماعت کرے گا جبکہ عدالت نے متعلقہ فریقن کو نوٹس جاری کردئیے-

فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن رپورٹ 150 صفحات پر مشتمل ہے، انکوائری کمیشن نے 33 گواہان کے بیانات کی روشنی میں رپورٹ تیار کی ہے،پورٹ کے مطابق انکوائری کمیشن کو کسی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے، لیفٹیننٹ جنرل ( ر ) فیض حمید نے صرف بطور ثالث کردارادا کیا اور انہیں ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف کی اجازت حاصل تھی، انکوائری کمیشن نے رپورٹ میں نتائج اخذ کرنے کے ساتھ 33 سفارشات بھی پیش کی ہیں۔

میرپورخاص میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کا انکشاف

واضح رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت ٹی ایل پی نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2017 کو دھرنا دیا تھا حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے بعد دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا تھا، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

مشی گن یونیورسٹی میں اسرائیل کیخلاف مظاہروں کے باعث تقریب معطل

اس دھرنے کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں نظام زندگی متاثر ہوگیا تھا جبکہ آپریشن کے بعد مذہبی جماعت کی حمایت میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، 27 نومبر 2017 کو حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے تھے، جس میں دوران آپریشن گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 کے شیڈول کا اعلان

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران فیض آباد دھرنے کا معاملہ زیر بحث آنے پر اس پر نوٹس لیا تھا اور متعلقہ اداروں سے جواب مانگا تھا حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیشن میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، 2 ریٹائرڈ سابق آئی جیز طاہر عالم خان اور اختر شاہ شامل ہیں۔

Leave a reply