fbpx

مشہورزمانہ لیاری گینگ کے سربراہ عزیربلوچ 3 مقدمات سے بری

کراچی :سندھ کی دھرتی میں خوف اور دہشت کی علامت جسے دنیا عزیربلوچ کے نام سے جانتی ہے ایک بارپھر سروخرو ہوتے نظرآرہے ہیں، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نےالزام ثابت نہ ہونے پر لیاری گینگ کے اہم کردار عزیربلوچ کو تین مقدمات سے بری کردیا ہے۔

لیاری گینگ وارکے اہم کردارعزیربلوچ مزید 3مقدمات میں بری کردیا گیا۔ اس کے خلاف 2مقدمات کلری اور ایک مقدمہ کلا کوٹ تھانے میں درج تھا۔ عزیربلوچ کےخلاف قتل، اقدام قتل اور پولیس مقابلےکےمقدمات درج تھے۔

پراسیکیوشن کی جانب سے لیاری کےگینگسٹرکے خلاف الزام ثابت کرنےمیں پھرناکامی ظاہر کی گئی۔ عزیربلوچ اب تک 67 میں سے 21مقدمات میں بری ہوچکا ہے۔

لياری گينگ وار کے سرکردہ کردار عزیربلوچ نے اپنے اقبالی بيان ميں کہا تھا کہ سابق صدرآصف زرداری کے کہنے پر اپنے گروہ کے 15 سے 20 لڑکے بلاول ہاؤس بھیجےجنہوں نے بلاول ہاؤس کے اطراف 30 سے 40 بنگلے اور فلیٹ زبردستی خالی کرائے۔

عزیربلوچ کے اقبالی بیان میں بتایا گیا کہ پیپلزپارٹی رہنما اویس مظفر کو آصف زرداری کے ليے14 شوگر ملوں پر قبضے میں مدد کی۔ بلاول ہاؤس کے اطراف بنگلےاورفلیٹ زبردستی خالی کروانے کی آصف زرداری نے انتہائی کم قیمت ادا کی۔

عذير بلوچ کے بيان ميں سابق صدرآصف زرداری،اویس مظفر،شرجیل میمن، قادر پٹیل اور پيپلزپارٹی کے ديگر رہنماؤں پرسنگين الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

عذیر بلوچ کے خلاف بیشتر مقدمات میں 2012 سے 2013 تک ہونے والے جرائم شامل ہیں۔3 ماہ قبل عذیربلوچ کے مسلسل بری ہونے سے متعلق عدالت میں پراسیکیوٹر نے انکشافات کيا تھا کہ عذیر بلوچ کے کیسز سے متعلق گواہان و پراسیکیوشن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ سرکاری وکيل نے کہا کہ گواہان پراسیکیوشن اور عدالتی عملے کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

عذیربلوچ کو رینجرز نے 30 جنوری 2016ء کو حراست میں لیا تھا۔ رینجرز نے اپریل 2017ء میں عذیر بلوچ کو جاسوسی اور غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو معلومات فراہم کرنے کے الزامات پر پاک فوج کے حوالے کر دیا تھا، کور 5 نے عذیر بلوچ کو 3 سال بعد 6 اپریل 2020ء کو پولیس کے سپرد کردیا تھا۔