فنکار اور مکا٘ر

ویسے ہمارے ملک میں فنکار ہیں آپکے خیال سے ۔۔۔
میرے حساب سے تو فنکار بہت پہلے اس ملک کو چھوڑ کر جا چکے ہیں
جیسے “منٹو صاحب “
اور “بڑے غلام علی “
اور بھی کئی نام ایسے ہیں جو اس ملک کو چھوڑ کر چلے جاتے اگر انکو اس ملک کو چھوڑ کر جانے کا موقع ملتا وہ اب ایک گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں نا کوئی انکا نام لیتا ہے نہ کوئی ان سے سیکھنے کی زحمت کرتا ہے نا ہی کوئی ان سے یہ پوچھتا ہے کہ وہ زندگی کیسے گزار رہے ہیں
کبھی کسی نے حسین بخش گلو جی کا نام لیا کسی کو پتہ ہے دلدار صاحب کون ہیں ؟؟؟؟ کسی کو پتہ ہے کہ ایک دھمال” ہو لال میری پت رکھیو” جو پوری دنیا میں بہت سنی اور گائی جاتی ہے کس موسیقار کی دھن ہے اور اس کو لیکھا کس شاعر نے ہے ؟؟

آپ اِن لوگوں کو فنکار کہتے ہیں جو اپنے کام کا ریاض چھوڑ کر صرف ذریعہ ڈھونڈنے کا ریاض کر رہے ہیں کہ بس کوئی ذریعہ سفارش مل جائے اور اپنا نام کر لیں کوئی محنت کوئی ریاضت نہ کرنی پڑے
کسی کو برا ٹھرا کر اور اپنے آپ کو خوامخواہ اچھا کہلوانا یا کسی کے کندھے پر پاؤں رکھ کے آگے بڑھ جانا تو فنکار کی فطرت نہیں ۔۔!
فنکار کبھی کسی کا حق نہیں مارتا بلکہ فنکار تو ڈرتا ہے ان سب باتوں سے وہ وہاں بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتا جہاں کسی کی حق تلفی کی بات ہو رہی ہو فنکار بہت ذیادہ ہی حساس ہوتا ہے اور فنکار ہی تو حق اور سچ بات کرتا ہے کیا آج کا فنکار ایسا ہے ؟ کیا فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے چاہے وہ اداکار ہو یا پینٹر ایک گانے والے سے لیکر ساز بجانے والا ہو یا موسیقار جو بھی اس شعبے سے تعلق رکھتا ہے کیا آج کا فنکار اتنی عاجزی اور انکساری دل میں رکھتا ہے؟؟
فنکار میں اور ایک عام شخص میں ایک ہی نمایاں فرق ہوتا ہے
کہ فنکار کو جھوٹ اور فریب نہیں آتا فنکار ایک ملاوٹ سے پاک چیز کا نام ہے
اس ملک کی یہی بد نصیبی ہے کے جیسے پارلیمنٹ میں ہر بار ایسے سیاست دان آ جاتے ہیں جو سیاست سے بہت دور ہیں مطلب کے انکو یہ ہی نہیں پتہ کے سیاست باہر کے لوگوں سے کر کے اپنے ملک کو اچھا چلانا ہے
لیکن وہ اپنے ہی ملک کو سیاست کی نظر کیے جا رہے ہیں ایسے ہی اس ملک کے فنکاروں کا حا ل ہے
یہ بھی اپنے فن سے بہت دور ہو کر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنے کام کی ریاضت جھوڑ کر سیاست کیے جا رہے ہیں ریاضت والا سیاست اور سیاست والا غلاظت کیے جا رہا ہے اور ہماری عوام بھی اپنے سارے کام چھوڑ کر اسی کی حوصلہ آفزائی کیے جا رہی ہے
کوئی اداکار ہو یا ہدائتکار کوئی گانے والا ہو یا ساز بجانے والا کہیں بھی کسی جگہ یا کسی ٹی وی چینل پر کسی فنکار کو کسی اپنے ساتھی فنکار کی تعریف کرتے کسی نے دیکھا ہے۔۔۔۔ نہیں کیوں کے ایسا کبھی ہوا ہی نہیں کیا اس بات سے لگتا ہے کہ آجکل فنکار کو اپنے فن پہ بھروسہ نہیں یا اسکو اندر سے پتہ ہے کہ وہ تو فنکار ہے ہی نہیں اپنے کسی ساتھی فنکار کا نام لینے سے کیوں ڈرتے ہیں ہمارے فنکار کیوں انکو لگتا ہے کہ کسی دوسرے فنکار کا نام لینے سے انکی عزت میں کمی آ جائے گی اسکا مطلب صاف ہے کے اصل میں وہ فنکار ہیں ہی نہیں اسی لیے وہ اپنے ساتھی فنکار کا نام لینے سے گھبراتے ہیں یا وہ فنکار یہ جانتا ہے کہ جس فنکار ساتھی کا وہ نام لینے جا رہا ہے وہ واقع ہی اس سے بڑا ہے ویسے اپنے سے سینیر کو عزت دینا تو کوئی بری بات نہیں اور اپنے سے جونئیر کو عزت دینابھی اچھی بات ہے

ہاں کچھ لوگ نام لیتے ہیں یہ ان فنکاروں کے نام لیتے ہیں جو مر چکے ہیں اور اس لیے انکو ان سے کوئی ڈر نہیں تو وہ بِلا جھیججک ان کا نام لے کر اپنی جھوٹی عاجزی و انکساری دیکھاتے ہیں کہ ہم انکو مانتے ہیں واہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو ہمارے فنکاروں کو یہ بات کب سمجھ آئے گی کہ ایک دوسرے کی عزت افزائی کرنے سے عزتوں میں اضافہ ہی ہو گا اور ہاں اگر آپ کسی کی ترقی کا باعث نہیں بن سکتے تو کم سے کم اس کی ترقی پر اسکی حوصلہ افزائی تو کر دیں
ہمارے ملک میں کسی بھی چینل نے کسی بھی راٹر ، کیمرامین ، ریکاڈسٹ ، گیت کار ، شاعر کو بلانے کی زحمت نہیں کی اور نہ ہی کبھی ان کے کام کو سراہا ساری داد فلم اور ڈرامے کا ہدائتکار لے جاتا ہے اور گانوں کی داد موسیقار لے جاتا ہے ہمارے ملک میں فلم اور ڈرامہ بنانے والوں نے ان سب رائٹرز جو انکی فلمیں ڈرامے لکھتے ہیں اور شاعر جو ان کی فلم اور ڈرامہ کی گانے لکھتے ہیں ان کے لیے
خاص بجٹ بنایا ہوتا ہے جو خاصا کم ہوتا مطلب ان کو یہ لگتا ہے کہ لکھنا ریکارڈ کرنا اور فلماناں دنیا کا آسان کام ہے ؟؟
اور افسوس اس ملک کے بہت ذیادہ ذہین لوگ جو ایوارڈز کو ڈیزائن کرتے ہیں انھوں نے کبھی کہانی نویس، کیمرا مین ، ریکاڈسٹ اور شاعر کی نومی نیشن والی کیٹا گری ہی نہیں بنائی مطلب یہ لوگ کہانی نویس،کیمرا مین، ریکاڈسٹ اور شاعر ان کے حساب سے فضول لوگ ہیں

اور اس ملک میں ہر بندہ ہی اپنے آپ کو ایک استاد کی نظر سے دیکھتا ہے اب سارے استاد ہونگے تو وہ طالب علم کہاں سے آئے گا کہ جس کو علم سیکھنا ہے اور جس کو جو نہیں آتا وہ وہی کیے جارہا ہے
اور ہماری عوام بھی اپنے سارے کام چھوڑ کر اسی کی حوصلہ آفزائی کیے جا رہی ہے
ہمارا ملک وہ ہے جہاں ایک سچے آرٹسٹ مطلب جو واقعئ فنکار ہے اپنے کام میں اسکو پاگل ، خبطی ، جیسے خطابوں سے نوازا جاتا ہے
آج کے فنکار ایک بات ضرور یاد رکھیں
فنکاری اور مکاری میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔۔۔ شکریہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.