فنکاروں اور دستکاروں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا پاکستان کے اجرک سازوں کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ فنکاروں اور دستکاروں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے-

باغی ٹی وی ::صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ فنکاروں اور دستکاروں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، فنون لطیفہ اور دستکاریوں کے فروغ اور تحفظ کیلئے ان کی ویلیو ایڈیشن اور کمرشلائزیشن پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پاکستان کے اجرک سازوں کے اعزاز میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ کی رقم بڑھا کر ایک ارب روپے کر دی ہے کیونکہ فنکاروں اور دستکاروں کی فلاح و بہبود موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالہ سے انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوم نے کورونا وبا کے پہلے مرحلہ میں احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے اس کا بھرپور انداز میں مقابلہ کیا ہے، اب کورونا وبا کی دوسری لہر کے دوران بھی ان احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد ناگزیر ہے، ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ رکھیں، بار بار ہاتھ دھوئیں اور چہرے کو بار بار ہاتھ نہ لگائیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا امیر و غریب کی تفریق نہیں کرتا بلکہ اس سے ہر طبقہ اور عمر کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فنون لطیفہ اور دستکاریوں کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کے بعد متعدد شعبے انحطاط پذیر ہیں، حکومت وقتی طور پر سہارا دے کر ان شعبوں کو محفوظ رکھ سکتی ہے تاہم اس حوالہ سے معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ سندھی اجرک کی تاریخ بہت پرانی ہے، ناپید ہوتی دستکاریوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، کمرشلائزیشن کے اس دور میں ویلیو ایڈیشن اور ان مصنوعات کی کمرشلائزیشن کے ذریعے ان کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

صدر پاکستان نے کہا کہ ہمیں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافہ کے تناظر میں حکمت عملی وضع کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حقیقت پسندی کا سامنا کرتے ہوئے دستکاریوں کو بچانے کیلئے مناسب حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

عارف علوی نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائننگ میں دستکاریوں کی ویلیو ایڈیشن کی جا سکتی ہے فنکار ملکی ثقافت کے فروغ میں اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا کہ ان کی وزارت ملک کے ثقافتی ورثہ اور نوادرات کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاہم ٹیکنالوجی میں جدت سے مختلف شعبوں پر تیزی سے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

تقریب سے پارلیمانی سیکرٹری برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ اکرم، پارلیمانی سیکرٹری برائے ثقافتی ورثہ غزالہ سیفی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس فوزیہ سعید نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر معروف گلوکار علی ظفر نے سندھی اجرک سے متعلق اپنے فن کا مظاہرہ کیا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اجرک سازوں کو تعریفی اسناد بھی دیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.