fbpx

فرانس کے سفیر کو واپس بھیجا تو پھر کیا ہوگا ، وزیراعظم نے آگاہ کردیا

فرانس کے سفیر کو واپس بھیجا تو پھر کیا ہوگا ، وزیراعظم نے آگاہ کردیا

باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان کا گزشتہ دنوں سے کالعدم تحریک لبیک کی جانب سے جاری پرتشدد مظاہروں پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں کا مقصد ایک لیکن طریقہ کار مختلف ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک لبیک والے چاہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی ملک توہین رسالت کا مرتکب نہ ہو، ہم بھی یہی چاہتے ہیں اور اسی کیلئے جدوجد کر رہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے موجودہ ملکی معاملات پر قوم سے خطاب میں کہا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھیجا تو کوئی دوسرا یورپی ملک ایسا ہی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سفیر کو واپس بھیجنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیا گارنٹی ہے کہ سفیر کو واپس بھیجنے سے دوبارہ گستاخی نہیں ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ فرانس سے تعلقات توڑنے کا نقصان فرانس کو نہیں صرف ہمیں ہوگا، بڑی مشکل سے ملکی معیشت اوپر جانے لگی ہے، روپیہ مستحکم ہورہا ہے، چیزیں سستی ہورہی ہیں، اگر فرانس سے تعلق توڑا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم یورپی یونین سے تعلق تورڑیں گے اور ایسا کرنے سے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو نقصان پہنچے گا کیوں کہ پاکستان کی آدھی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ یورپی ممالک میں ہوتی ہیں۔

جب ٹیکسٹائل سیکٹر پر دباؤ آئے گا تو روپیہ گرے گا، مہنگائی ہوگی، بے روزگاری بڑھے گی، نقصان ہمیں ہی ہوگا، فرانس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے دوبارہ ایسا نہیں ہوگا بلکہ کوئی دوسرا یورپی ملک اس معاملے کو آزادی اظہار کا معاملہ بناکر ایسا ہی کرے گا۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری ٹی ایل پی کے ساتھ دو ڈھائی مہینے سے اس معاملے پر بات چیت جاری تھی، ان کا مطالبہ تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے، ہم نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسا کرنے سے نقصان ہمارا ہی ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر آئیں، ہم معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کی تیاری کررہے تھے لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ نچلی سطح پر یہ لوگ اسلام آباد آنے کی تیاری کررہے ہیں اور ان کا مطالبہ سفیر کی ملک بدری ہی ہے، اس کے بعد ان سے مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپنے ہی ملک میں توڑ پھوڑ کرکے کوئی فائدہ نہیں، دنیا میں 50 مسلم ممالک ہیں لیکن کہیں بھی ایسا نہیں ہورہا۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی اور ہمارا مقصد ایک ہی ہے کہ آئے دن شان رسالت میں گستاخی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ہمارا اور ٹی ایل پی کا طریقہ مختلف ہے، فرانس کے سفیر کو نکال کر یہ مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے میری حکمت عملی ذرا مختلف ہے، ٹی ایل پی کے احتجاج کے بعد تمام مسلم ممالک کے سربراہان کو خط لکھا کہ اس معاملے پر متحد ہوکر آواز اٹھائیں۔

عمران خان نے کہا کہ صرف پاکستان کے بائیکاٹ سے مغرب کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، تمام مسلم ممالک کو اس بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ مغرب کو یہ متفقہ پیغام دیں کہ اگر کسی بھی ملک میں اس طرح کی گستاخی کی گئی تو ہم سب اس سے تجارتی تعلقات منقطع کریں گے تب جاکر انہیں احساس ہوگا۔

وزیراعظم نے یقین دلایا کہ وہ اس مہم کی قیادت کریں گے اور وہ دن دور نہیں جب مغرب کو احساس ہوگا
احتجاج سے ملک کو ہی نقصان پہنچا

وزیراعظم نے احتجاج کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اب تک 40 پولیس کی گاڑیوں کو جلا دیا گیا ہے، لوگوں کی نجی املاک کا نقصان ہوا، 4 پولیس اہلکار شہید ہوئے، 800 سے زائد زخمی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے دن کے احتجاج میں 100 سڑکیں بلاک کردیں، اس سے عوام کو نقصان ہوا، کورونا کے سلنڈرز نہ پہنچنے کی وجہ سے اموات ہوئیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس کے علاوہ انتشار کا فائدہ اٹھانے کیلئے بیرونی قوتیں بھی اس میں کود پڑیں۔ ابھی تک ہم نے 4 لاکھ ٹوئٹس کا جائزہ لیا ہے جن میں سے 70 فیصد جعلی اکاؤنٹس سے کی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ ہندوستان کے 380 گروپس اس حوالے سے واٹس ایپ گروپ میں جعلی خبریں پھیلارہے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس معاملے پر ہماری سیاسی جماعتیں خاص طور پر فضل الرحمان کی جے یو آئی بھی شامل ہوگئی تاکہ کسی طرح حکومت کو غیر مستحکم کیا جاسکے، ساتھ ن لیگ بھی آگئی، ان سے میں پوچھتا ہوں کہ جب سلمان رشدی نے کتاب لکھی تھی تو نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے تھے، انہوں نے کتنے بیانات دیے، کتنے فورمز پر انہوں نے کہا کہ یہ بڑا غلط کام کیا ہے، کتنی دفعہ کسی بھی سربراہ مملکت نے کسی بھی فورم پر اس معاملے پر بات کی تھی؟ لیکن آج صرف انتشار پھیلانے کیلئے ان کے ساتھ مل گئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.