fbpx

پاکستان میں ٹریفک کا نظام تحریر: فرمان اللہ

میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں کافی عرصے بعد کچھ دن پہلے پاکستان آیا ہوں۔ چونکہ ہم دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں تو ہمارے لیے آسان ہوتا ہے دوسرے ملکوں اور پاکستان کے نظام میں فرق کرنا۔ میں ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہوں تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ ان بنیادی مسائل کو اجاگر کروں گا جن کا تعلق صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ عوام سے بھی ہو اور آج ان مسائل میں سے ایک اہم مسلہ ٹریفک کا نظام ہے۔

اس آرٹیکل میں میں پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے ٹریفک نظام کے حوالے سے لکھوں گا۔ ٹریفک قوانین عوام کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں لیکن ہمیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے اوپر ظلم کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے ذکر کروں گا ریڈ سنگل کا کراس کرنا۔ ریڈ سگنل کو ہماری عوام ایسے کراس کرتی ہے جیسے دنیا میں لوگ گرین سگنل کو کراس کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں ریڈ سگنل کراس کرنا ایک سنگین جرم ہے لیکن ہمارے ہاں لوگ اسے جرم نہیں سمجھتے اور بہت سارے مقامات پر میں نے دیکھا ہے کہ ٹریفک پولیس بھی ریڈ سگنل کے کراس کرنے کو اتنی اہمیت نہیں دیتی جس کی وجہ سے عوام بغیر سوچے سمجھے ریڈ سگنل کراس کر لیتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے کسی کی جان بھی جا سکتی ہے۔

دوسرا سیٹ بیلٹ کا نہ باندھنا
پاکستان میں لوگ سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر کرتے ہیں اور سیٹ بیلٹ ایکسیڈنٹ کی صورت میں ہمارے حفاظت کرتا ہے لیکن شاید ٹریفک پولیس کی طرف سے اس کی اہمیت کو اتنا اجاگر نہیں کیا گیا اور نہ سختی کی گئی جس کی وجہ سے عوام سیٹ بیلٹ کا استعمال نہیں کرتی۔

تیسرا یو ٹرن
پوری دنیا میں یو ٹرین صرف ایک لائن سے کیا جا سکتا ہے لیکن پاکستان میں دو دو تین تین لائنوں سے یو ٹرن کیا جاتا ہے جو ایک جرم بھی ہے اور ایکسیڈنٹ کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

راونڈ اباوٹ
پوری دنیا میں راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے سے پہلے گاڑی روکی جاتی ہے دیکھا جاتا ہے کہ کیا راونڈ اباوٹ میں کوئی گاڑی تو نہیں اگر ہے تو اس کے گزرنے کا انتظار کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اس کے برعکس چلا جاتا ہے۔ راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے والا بغیر احتیاط کیے راونڈ اباوٹ میں داخل ہو جاتا ہے جبکہ راونڈ اباوٹ میں گھومنے والی گاڑی اس کے لیے راونڈ اباوٹ کے اندر ہی رک جاتی ہے جو انتہائی غلط عمل ہے۔

اس کے علاوہ بہت سارے ایسے مسائل ہیں جن کا اگر میں زکر اس آرٹیکل میں کروں تو یہ آرٹیکل بہت لمبا ہو جائے گا میں نے کچھ اہم ایشوز کا زکر کیا ہے جن کی اصلاح انتہائی ضروری ہے۔ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک کوتاہی روڈ مارکنگ کا نہ ہونا جس کی وجہ سے زیادہ تر ڈرائیور لائن کی پابندی نہیں کرتے۔ ہر روڈ پر روڈ مارکنگ ہونی چاہیے اس کے علاوہ بہت سارے سگنل کام نہیں کرتے جو ٹریفک جام کا سبب بنتے ہیں۔

ٹریفک پولیس اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو جائے۔

شکریہ

Article by: Farman Ullah
Twitter ID: @ForIkPakistan

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!