fbpx

فاروق ستار اور وسیم اختر سمیت 7 ایم کیو ایم رہنما اشتعال انگیز تقاریر کے 21 مقدمات میں بری

اشتعال انگیز تقاریر میں سہولت کاری کے الزام میں انسداد دہشت گردی عدالت نے 21 مقدمات میں ایم کیو ایم پاکستان کے 7 رہنمائوں کو بری کر دیاہے، ملزموں نے بریت کی درخواستیں دائر کی تھیں۔منگل کوکراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں ایم کیو ایم رہنمائوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے 21 مقدمات کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے ایم کیو ایم رہنمائوں کی جانب سے دائر بریت کی درخواستیں منظور کرلیں۔ عدالت نے فاروق ستار، خواجہ اظہار الحسن، وسیم اختر، قمر منصور، رئوف صدیقی، ریحان ہاشمی، سلمان مجاہد بلوچ کو بری کر دیا۔ملزموں کے خلاف قائد ایم کیو ایم کی اشتعال انگیز تقاریر میں سہولت کاری کا الزام تھا۔ پولیس نے 2015 میں ضلع ملیر کے مختلف تھانوں میں بانی ایم کیو ایم کی تقاریر میں سہولت فراہم کرنے کے الزام میں ملزموں کے خلاف مقدمات درج کئے تھے۔
ملزمان کے وکلا شوکت حیات اور ارشاد بندھانی نے موقف اختیار کیا تھا کہ تقریر کرنے والا لندن میں جبکہ ملزم اپنے گھروں میں تھے، سہولت کاری کیسے ہوگئی۔ عدالت نے وکلاکے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ملزموں کو بری کر دیا۔واضح رہے کہ بانی ایم کیو ایم نے 22 اگست 2016 کو کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے کارکنان سے خطاب کیا تھا جس کے بعد وہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے پاکستان مخالف نعرے لگا کر میڈیا کے دفاتر پر دھاوا بول دیا تھا۔
مظاہرین نے دفاتر میں شدید توڑ پھوڑ کے ساتھ سیکیورٹی عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جبکہ خواتین سمیت دفاتر میں موجود ملازمین کو ہراساں بھی کیا تھا۔ ایک روز بعد ایم کیو ایم رہنمائوں نے فاروق ستار کی قیادت میں اپنے قائد کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا جس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ دو دھڑوں، ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن میں تقسیم ہوگئی۔
فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ 7 ملزمان بری ہوئے ہیں، گزشتہ 6 سالوں سے مقدمہ چل رہا تھا، جو صرف تالیاں بجانے اور تقریر کروانے کا تھا، ہمارے خلاف اسی پسِ منظر کے دیگر مقدمات بھی ختم ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ 2016میں اپنی پالیسی واضح کی، ہم تو الگ ہوگئے لیکن ان مقدمات کے ذریعے ہمیں اسی سے جوڑا جارہا ہے، اب لاپتہ گم شدہ کارکنان اور بے گناہ کارکنان کو باہر آنا چاہیے۔