فرضی کہانیاں ، قصے اور تماشا در تماشا ،سیاست اور ریاست آمنے سامنے ،مبشر لقمان کا اہم تجزیہ

فرضی کہانیاں ، قصے اور تماشا در تماشا ،سیاست اور ریاست آمنے سامنے ،مبشر لقمان کا اہم تجزیہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے۔ حکومت اور حزب مخالف میں ٹکراؤ اور کشیدگی میں اضافہ ہو رہاہے۔ اس وقت ہمارے سیاسی اکھاڑے میں دو بیانیوں کا ٹکراؤ ہے۔ ایک طرف ووٹ کو عزت دو اور دوسری طرف کرپشن کا خاتمہ دونوں اپنے اپنے بیانئے پر سینہ تان کر کھڑے ہیں ۔ انصاف کی فراہمی اور کرپشن کے خاتمے کا نعرہ عمران خان کی سیاست کی بنیاد ہے ۔ اس نعرے نے انہیں ایک ایسے امتحان میں بھی ڈال دیا ہے۔ جس میں سرخرو ہو کر ہی وہ اپنی کامیابی پر مہر ثبت کر سکتے ہیں ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی وزیر اعظم عمران خان کی نیت پر شک نہیں۔ وہ یقیناً عوام کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہوں گے۔ لیکن ان کے راستے میں دیدہ و نادیدہ طاقتوں نے ایسے روڑے بچھا رکھے ہیں کہ وہ تیزی سے آگے بڑھنا بھی چاہیں تو نہیں بڑھ سکتے۔ اب تو وہ خود بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت میں آنے سے پہلے اُنہیں علم نہیں تھا کہ مافیاز کس انداز سے کام کرتے ہیں؟ اب انہیں قدم قدم پر ان مافیاز سے لڑنا پڑ رہا ہے۔ جب ملک کا وزیر اعظم ایسی باتیں کرے تو اس میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے اوپر بھی ایک حکومت ہے جو حکومت کو چلنے نہیں دیتی۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ساتھ ہی عمران خان کو چاہیے کہ وہ ایک بار ہی بتادیں کہ نیاپاکستان بن سکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ گزشتہ دو برسوں اور دو مہینوں سے تو وہ یہی باور کرارہے ہیں کہ نیا پاکستان کوئی سوئچ بورڈ نہیں ہے کہ جسے آن کر کے نیا پاکستان بن جا ئے گا۔ عمران خان کو اس لئے بھی سنجیدہ ہوجانا چاہئے کہ اب اپوزیشن نے سڑکوں کے بعد ایوانوں کو بھی گرم کرنا شروع کردیا ہے اور قومی اسمبلی میں اودھم مچ گیا ہے۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو ’’غدار ‘‘ اور بھارت کا ایجنٹ قرار دینے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے کو شاں ہے جس سے جہاں دونوں ایوانوں کا پارلیمانی امن تباہ ہو رہا ہے ۔ وہاں ہر سیشن ہنگامہ آرائی اور احتجاج کی نذر ہو رہا ہے ۔ اپوزیشن کے جارحانہ طرز عمل کے سبب سپیکر اسد قیصر بھی پارلیمان کم کم ہی آرہے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) سپیکر سے اس حد تک نالاں ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کی تجویز تک پیش کر دی ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سینیٹ میں بھی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کو بات کرنے کا موقع نہ ملنے پرحکومتی ارکان نے احتجاج کیا جبکہ قائد ایوان شہزاد وسیم کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید شور شرابہ کیا۔ عمران خان کو اِس لئے بھی سنجیدہ ہوجانا چاہئے کہ مولانا فضل الرحمن پشاور کے جلسے کو معرکہ کن قرار دے رہے ہیں اور مریم نواز مینار پاکستان گراؤنڈ میں ڈیڑھ لاکھ کا مجمع اکٹھا کرنے کے لئے ورکرز کنونشنوں سے خطاب شروع کرنے والی ہیں۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے میں وباء کے نام پر اگر حکومت نے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی تو سڑکوں اور ایوانوں میں نظر آنے والی گرمی گھر گھر جا گھسے گی اورلوگ گھروں سے نکل آئیں گے۔ پی ڈی ایم کے تین جلسوں میں ہی واضح طور پر نظر آ گیا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز نے اپنے سارے کارڈز کھیل دیے ہیں۔ نواز شریف اس بات کا یقین کر لینے کے بعد کہ اب ان کا سیاست میں کوئی کردار باقی نہیں رہا۔ صرف بدلہ لے کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مریم نوازبڑھ چڑھ کر اپنے والد کا ساتھ دے کر اپنے سیاسی مستقبل کو دائو پر لگا رہی ہیں ۔ کیونکہ ان دونوں باپ بیٹی سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا کہ پاکستان میں اقتدار کے حصول کا فارمولہ کیا ہے ۔ انہیں معلوم ہے کہ طاقت ور حلقوں میں اگر وہ قابل قبول نہ رہے اقتدار میں آنے کا امکان صفر رہے گا۔ نواز شریف نے تو الطاف حسین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی سیاست اور ملک واپسی کے تمام راستے ختم کر ہی لیے ہیں ۔ مریم اس راستے پر کیوں چل رہی ہیں یہ سمجھ سے باہر ہے ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کا اعتماد ان کے کارکنوں کی بنا پر ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں ان کے چند ہزار طلبہ ان کی طاقت ہیں جس کے بل بوتے پر وہ ریاست کو للکار سکتے ہیں۔ بلیک میل کر سکتے ہیں اور مرضی کے نتائج حاصل کر سکتے ہیں ۔مولانا پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مجھے اگر کھیل کا حصہ نہ بنایا تو میں آپ کے گلے کی ہڈی بنا رہوں گا مگر مولانا کو سمجھنا چاہیے کہ اگر اگلے انتخابات میں بھی انہیں پارلیمنٹ میں نشست نہ ملی تو سڑکوں پہ رہنے سے انہیں کیا ملے گا ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف کی حکمت عملی البتہ شاندار ہے ۔ ضمانت کی درخواست واپس لے کر جیل جانے کا بروقت اور شاندار فیصلہ نہایت موزوں تھا جس کے بارے میں سوچ کر وہ دن رات مسکراتے ہوں گے۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سیاسی لڑائی جس مقام پر آچکی ہے وہاں اپوزیشن کا باہمی اتحاد بھی ان کے لیے بہت اہم ہے ۔ سوال تو ہے کہ اب حکومت کیا کرے گی ۔ اتحاد نہ ٹوٹا تو کریک ڈائون کیا جاسکتا ہے ۔یا پھر اکثر اپوزیشن رہنماوں کو عدالتوں سے نااہل کرایا جا سکتا ۔ مگر یہ بھی آسان کہاں ہے۔ کیونکہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کی بات مان کر جیسے ہی حکم دیا کہ کرپشن کے مقدمات کی روزانہ سماعت کی جائے تو شور اٹھا کہ حکومتی کرپشن کے تمام معاملات اور پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ۔ فیصل ووڈا کی نااہلی ۔ ڈپٹی سپیکر سوری سمیت انتخابی دھاندلی کے معاملات کی بھی فوری سماعت کی جائے ۔ پاپا جونز پیزا کی بات بھی اٹھائی جارہی ہے۔اس کشیدہ ماحول میں جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کا تفصیلی فیصلہ بھی بہت اہم ہے ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں موجود پہلی کمزوری یہ ہے کہ اس میں شامل سیاسی جماعتوں کے موقف میں ہم آہنگی کاشدید فقدان ہے جو قائدین کی تقریروں میں بھی واضح نظر آتاہے ۔ نواز شریف اور مریم نوازاپنے کیسز کے خاتمے کی جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں تو فضل الرحمن کو محض اسمبلی میں موجود نہ ہونے کا غصہ ہے جبکہ بلاول صرف حکومت کی خراب کارکردگی پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں اور ہمیشہ ایک ایسی تقریر کرتے ہیں جو کسی بھی دور میں کسی بھی حکومت کے خلاف کی جائے تو اس سے کسی کو کوئی فرق نہ پڑے ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاپیپلز پارٹی دانستہ طور پر پی ڈی ایم کے جلسوں کو زیادہ طاقتور بنانا نہیں چاہتی ؟ کیا پیپلز پارٹی کھیل کا حصہ رہنا چاہتی ہے ۔ کھیل بگاڑنا نہیں چاہتی۔ کیا وہ نہیں چاہتی کہ سیاست اس نہج پر پہنچ جائے ۔ جہاں وہ کھیل کا حصہ نہ رہے ۔ کیا وہ یہ بھی نہیں چاہتی کہ دوبارہ الیکشن ہوں کیونکہ وہ جانتی ہے جو کچھ آج ان کے پاس ہے انہیں اس سے زیادہ نہیں ملے گا۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں دوسری کمزوری یہ ہے کہ اس کا ایجنڈا غیر واضح ہے ۔ پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتیں کسی ایک ایجنڈے پر متفق نہیں۔ مثلا ن لیگ ـ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگا کر میدان میں ہے تو پیپلز پارٹی کا یہ مسئلہ نہیں ۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ پیپلز پارٹی اس اتحاد میں کیوں ہے ۔حالانکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ تو پنجاب میں دھاندلی ہوئی ہے نہ کسی اور صوبے میں ان کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے ۔ وہ عمران خان کو گھربھی نہیں بھیجنا چاہتے ۔ وہ دوبارہ الیکشن بھی نہیں چاہتے ، پھر وہ چاہتے کیا ہیں ۔ان کا ایجنڈا واضح ہے۔ موجودہ حالات میں وہ صرف اپوزیشن دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ جب اپوزیشن کی باقی جماعتیں احتجاج کر رہی ہوں تو پیپلز پارٹی غیر موجود نہ ہو۔ مولانا فضل الرحمن البتہ کسی بھی طرح نئے سیٹ اپ کی تلاش میں ہیں جس میں ان کی کوئی گنجائش نکلنے کا امکان موجود رہے۔ چاہے وہ کوئی بھی سیٹ اپ ہو۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں چاہتے۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مگر اس سب کے باوجود حکومت کو سوچنا چاہیے کہ مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ ہر شے کی قیمت آسمان کو لگی ہوئی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ حکومت میں بیٹھے آٹا اور چینی مافیا نے عوام کو 404 ارب روپے کا ٹیکہ لگایا ہے تو کوئی بتاتا ہے کہ پورے ریجن میں پاکستان کے علاوہ کسی بھی ملک میں مہنگائی اس قدر نہیں ہوئی۔ جس قدر یہاں ہوگئی ہے۔ ایسے میں حکومت مہنگائی پر قابو نہ پانے کی ذمہ داری بیورو کریسی پر منتقل کر کے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ حکومت کے لیے جوش نہیں ۔ ہوش سے کام لینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن اور حکومت کے علاوہ تیسری طاقت کے لیے بھی مسائل کچھ کم نہیں ہیں ۔ کیونکہ ہمیشہ اقتدار کی بندر بانٹ کرنے والوں کے لئے خطرے کی گھنٹی یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی چھتری کے نیچے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سیاست کرنے والی مسلم لیگ ن کا بیانیہ بدل گیا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.