fbpx

فواد چوہدری نے سرزنش کے باوجود ایک بار پھر عدلیہ پر انگلی اٹھادی

فواد چوہدری نے سرزنش کے باوجود ایک بار پھر عدلیہ پر انگلی اٹھادی

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے سرزنش کے باوجود ایک بار پھر عدلیہ پر انگلی اٹھادی۔ ایک بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ اور عدالتیں ہمیشہ نواز شریف کے ساتھ رہیں ، 1993 میں بھی نواز شریف کی حکومت بحال کی گئی۔ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان نے وارننگ دی تھی کہ بہت ہوگیا،اب برداشت نہیں ہوگا، فواد نےنشانہ بنایا تو توہین عدالت ہوگی۔
https://twitter.com/fawadchaudhry/status/1614978853595652099-
اس کے علاوہ فواد چوہدری نے سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی پرپیپلزپارٹی کوبھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری، آئی جی سندھ،ممبر الیکشن کمیشن کو بہت مبارکباد کہ آپ کی شبانہ روز کوششوں کے بغیر یہ ممکن نہ تھا،کوئی شرم ہوتی ہے حیا ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری کی سرزنش کی تھی۔ سماعت کے دوران فواد چودھری نے کہا تھا کہ حمزہ شہباز قائمقام وزیراعلیٰ ہوں گے کیونکہ وہ منتخب وزیراعلیٰ نہیں ہیں۔ تاہم چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں حمزہ شہباز کیلئے قائمقام کا لفظ استعمال نہیں کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر

چیف جسٹس نے فواد چودھری کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے اس سے قبل صرف نیب والی درخواست دی تھی لیکن آپ کے الفاظ سے لگتا ہے کہ آپ کو عدالتی نظام سے کافی تشنگی ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا تھا کہ عدالت پر باتیں کرنا بہت آسان ہے۔ ججز جواب نہیں دے سکتے لیکن یاد رکھیں اگر توہین عدالت کا اختیار استعمال ہوا تو آپ کی روز یہاں حاضری ہوگی۔