fbpx

مولانا فضل الرحمن نے دوست بدلنے کا فیصلہ کرلیا:اشارہ بھی دے دیا

ڈیرہ اسمعٰیل خان:مولانا فضل الرحمن نے دوست بدلنے کا فیصلہ کرلیا:اشارہ بھی دے دیا ،اطلاعات کے مطابق بڑی تیزی سے بدلتےسیاسی حالات اورپی ڈی ایم کی نامرادیوں کے بعد مولانا فضل الرحمن نے اپنے دوست بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہے

اس سلسلے میں معلوم ہوا ہےکہ اس کے اشارے مولانا پہلےبھی دے چکے اوراب بھی ن لیگ اورجے یو آئی ف کے درمیان کچھ ایسی دوریاں پیدا ہوگئی ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھیوں نے مشورہ دیا ہے کہ نوازشریف اورمریم نواز کوبچاتے بچاتے کہیں ہم اپنا سب گنوا نہ لیں‌

یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس سلسلے میں پہلے بھی کئی بار ایسا فیصلہ ہوا لیکن نوازشریف فورا مریم نواز کو مولانا کے پاس بھیج کرمنا لیتےتھے ، جس پرمعاملہ ٹل جاتاتھا، تاہم اب مولانا نے مریم سے متاثرنہ ہونے کا ارادہ کرلیا ہے

اس بار یہ بھی سننے کو آرہا ہے کہ نوازشریف محمود خان اچکزئی اور مولانا کے کے بعض قریبی دوستوں کو بھی اپروچ کرچکےہیں

ادھراس حوالے سے تازہ ترین اپ ڈیٹس کے متعلق یہ کہا جارہاہےکہ مولانا فضل الرحمن نے قانون سازی کے لیے بننے والی انتخابی اصلاحات کی کمیٹیوں سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا سرا سرنقصان ن لیگ اورفائدہ حکومت کو ہوگا، ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے مولانا فضل الرحمن الیکٹرانک ووٹنگ کے خلاف نہیں ہیں

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مولانا فضل الرحمن الیکٹرانک ووٹنگ کے حق میں ہیں لیکن ن لیگ کے اتحادی ہونے کی وجہ سے وہ معاہدے کے مطابق ن لیگ کے موقف کے ساتھ غیرارادی طور پرہیں لیکین وہ ان انتخابی اصلاحات کی مخالفت نہیں کریں گے

دوسری طرف مولانا فضل الرحمن نے واضح طورپرکہہ دیا ہے کہ ن لیگ پی ڈی ایم کا حصہ ہے کسی بھی معاملہ پر پی ڈی ایم کو اعتماد میں لینا ہوگا ، لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جے یو آئی ف کو اب ن لیگ پراعتماد نہیں رہا

یہ معتبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی سے متعلق مولانا فضل الرحمان نے خدشات کا اظہار کیا ہے اور مولانا فضل الرحمان کا ن لیگ سے شدید احتجاج بھی کیا ہے جواگلے آنے والے دنوں میں پی ڈی ایم کی ٹوٹ بٹوٹ کا سبب بنے گی