حکومت کے خلاف ملین مارچ ہوگا.مولانا فضل الرحمن، نہیں ،پارلیمنٹ کے اندر احتجاج ہونا چاہیے بلاول

سلام آباد:اپوزیشن کی جماعتیں ایک دوسرے کی اپوزیشن ہوگئیں.حکومت کے خلاف تحریک پر آغاز سے قبل ہی دراڑیں پڑنےلگیں. اسلام آباد سے ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے مولان فضل الرحمن کے حکومت کے‌خلاف ملین مارچ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف آواز پارلیمنٹ میں اٹھانی چاہیے اور مناسب فورم ہے. مولانا فضل الر حمن ایک طرف حکومت کے خلاف ملین مارچ کی دھمکی دے رہے ہیں تو دوسری طرف بلاول کے اختلاف کے باعث مولانا فضل الرحمن کی حکومت کے خلاف کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے.

دوسری طرف مولانا فضل الرحمن نے اے پی سی میں شرکت کرنے والے رہنماوں کا شکریہ ادا کیا ہے لیکن دوسری طرف ابھی تک مولانا کو تسلی نہیں ہوئی اس لیے اور لوگوں کو بھی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی دعوت دیتے ہوئے کہ رہے ہیں کہ جو بھی آنا چاہے اس کے لیے دورازے کھلے ہیں ہم تو انتظار کررہے ہیں .مولانا فضل الرحمن نے ایک بیان میں‌یہ بھی بتایا ہے کہ اے پی سی میں قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے. مولانا فضل الرحمن نے مریم نواز کے بارے میں یہ کہا ہے کہ مریم حکومت کے خلاف سخت ترین ردعمل دینے اور تحریک چلانے کی تمنا رکھتی ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.