fbpx

صوبہ پنجاب میں ایک اور آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ

لاہور:پاکستان میں سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم صوبے پنجاب میں ایک بار پھر آئینی بحران پیدا ہونے جارہاہے ، یہ بحران اس وقت بہت ہی زیادہ شدت اختیار کرنے لگا ہے ، اطلاعات ہیں کہ پنجاب کےموجودہ گورنر بلیغ الرحمان وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہٰی کی کابینہ سے حلف نہیں لیں گے۔

گورنرپنجاب نےآرڈیننس جاری کرکےنہایت غیرقانونی کام کیا ہے:چوہدری پرویز الٰہی

پنجاب کے حوالے سے آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگریہ صورت حال برقرار رہی تومعاملات حد سے زیادہ بگڑسکتےہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے گورنر بلیغ الرحمان کی منظوری کے بغیر پنجاب کابینہ کی تشکیل مکمل نہیں ہوسکے گی۔

قائم مقام گورنرپنجاب،پرویزالہی کی قانونی ماہرین سے مشاورت

دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان وزیراعلیٰ پرویزالہٰی کی کابینہ سے حلف نہیں لیں گے، جب کہ کابینہ کی تشکیل گورنرکی منظوری کے بغیر مکمل نہیں ہوسکے گی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اسمبلی کی آئینی دستاویز کے مطابق صوبائی وزراء گورنر پنجاب سےعہدے کا حلف لینے کے پابند ہوتے ہیں، اور آئین کے تحت گورنر ہی وزیراعلیٰ کی تجویز پر کابینہ کے نام فائنل کرتا ہے، اور گورنر کےعلاوہ کسی کے پاس صوبائی وزراء سے حلف لینے کا اختیار نہیں۔

‘گورنرپنجاب کوئی درباری اوتھ کمشنرنہیں’:کسی دباوپرغیرآئینی کام نہیں‌

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی پنجاب میں آئینی بحران پیدا ہوا تھا جب پنجاب میں پہلی بار دو الگ الگ بجٹ اجلاس طلب کئے گئے تھے

موجودہ وزیراعلیٰ پرویز الٰہی جو کہ اس وقت اسپیکرپنجاب اسمبلی تھے ، انہوں نے بلڈنگ میں بلائے گئے اجلاس میں حکومت کا کوئی رکن شریک نہیں ہواتھا ۔ اجلاس میں اسپیکرکے حکم پر سیکرٹری پارلیمانی امورعنایت اللہ لک نے پینل آف چیئرمین کا اعلان کیا، پینل آف چیئرمین میں نوابزادہ وسیم خان باروزئی،میاں شفیع محمد، ساجد احمد خان بھٹی اور شازیہ عابد شامل تھے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک آور آئینی بحران بھی پیدا ہوا تھا جب پنجاب میں گورنرشپ کا معاملہ حل کرن کے لیے وزیراعظم شہبازشریف کو بھی میدان میں آنا پڑا ،عمرسرفراز چیمہ کے بعد جب بلیغ الرحمن نے گورنرپنجاب کا حلف اٹھایا تو یہ بحران وقتی طورپرٹل گیا تھا