ریکوڈک کیلئے تمام مالیاتی بوجھ وفاقی حکومت اٹھائےگی: خوشحال بلوچستان خوشحال پاکستان:وزیراعظم عمران خان

0
181

لاہور:ریکوڈک کیلئے تمام مالیاتی بوجھ وفاقی حکومت اٹھائے گی:بلوچستان کی خوشحالی پاکستانی کی خوشحالی ہے:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ریکوڈک کے لیے تمام مالیاتی بوجھ اٹھائے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ چھوٹے صوبوں کی ترقی کے لیے اپنے حکومتی وژن کے مطابق میں نے فیصلہ کیا کہ ہماری وفاقی حکومت ریکوڈک کے لیے تمام مالیاتی بوجھ اٹھائے گی اور حکومت بلوچستان کی جانب سے اس کی ترقی کا بوجھ اٹھائے گی۔وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ اس سے بلوچستان کے عوام اور صوبے کے لیے خوشحالی کے دور کا آغاز ہو گا۔

 

 

 

 

خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے جنوری 2013ء میں ریکوڈک کے ذخائر استعمال کرنے کے آسٹریلوی کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) اور بلوچستان حکومت کے معاہدے کو کالعدم قرار دیا تھا۔عدالت نے قرار دیا تھا کہ جولائی 1993ء میں ہونے والا یہ معاہدہ ملکی قوانین کے خلاف ہے اور اس کے بعد اس میں کی گئی تمام بھی ترامیم غیر قانونی اور معاہدے کے منافی ہیں۔

2011 میں نواب اسلم رئیسانی کی حکومت نے کمپنی کی جانب سے کان کنی کے لیے لائسنس کی درخواست مسترد کی تھی۔ بلوچستان حکومت اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) نے جنوری 2012ء میں ورلڈ بینک گروپ کے انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) سے رجوع کیا۔

سرمایہ کاری سے متعلق اس عالمی ثالثی عدالت نے 7 سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے جولائی 2019ء میں پاکستان پر تقریبا 6 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا جو ملکی مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد کے برابر رقم ہے۔ اس کے فوری بعد ٹی سی سی نے اس فیصلے کے نفاذ کے لیے کارروائی شروع کردی تھی اور برٹش ورجن آئی لینڈ کی عدالت نے دسمبر 2020 میں پی آئی اے کے نیویارک اور پیرس میں ہوٹل سمیت پاکستانی اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا تاہم بعد میں یہ فیصلہ منسوخ ہوا اور پاکستان نے عالمی عدالت سے مئی 2021 تک مشروط حکم امتناع بھی حاصل کر لیا۔

گزشتہ کئی ماہ سے ٹیتھیان کاپر کمپنی اور پاکستانی حکومت کے درمیان عدالت سے باہر معاملات طے کرنے کی کوششوں کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ تقریباً ایک ماہ قبل 30 نومبر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اراکین نے قرارداد کے ذریعے ریکوڈک سے متعلق نئے مجوزہ معاہدے پر بلوچستان اسمبلی کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ ریکوڈک ایران اور افغانستان کی سرحد کے قریب بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں ٹیتھیان کی اراضیاتی پٹی پر واقع ہے۔ یہ پاکستان میں سونے، چاندی اور تانبے کا سب سے بڑا ذخیرہ مانا جاتا ہے اور اس کا شمار دنیا کے چند بڑے قیمتی زیر زمین ذخائر میں ہوتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ریکوڈک میں ایک کروڑ 30 لاکھ ٹن تانبے کے ذخائر اور دو کروڑ 30 لاکھ اونس سونا موجود ہے۔

ٹھیتان کاپر کمپنی کی ایک رپورٹ کے مطابق ریکوڈک کا اقتصادی طور پر قابلِ کان کن حصہ 2.2 ارب ٹن جبکہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق چار ارب ٹن سے زائد ہے، جس میں اوسطاً تانبا 0.53 فیصد ہے جبکہ سونے کی مقدار 0.3 گرام فی ٹن ہے۔ اس منصوبے کی کل عمر کا تخمینہ 56 سال لگایا گیا ہے۔

Leave a reply