ورلڈ ہیڈر ایڈ

ایف آئی اے اور پی ٹی اے سوشل میڈیا پرتوہین آمیز مواد پھیلانے والوں‌ کا سراغ لگائیں، اسلام آباد ہائی کورٹ‌

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے اور پی ٹی اے کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد پھیلانے میں ملوث افراد کا سراغ لگائے. عدالت کے ڈویژنل بنچ نے 20 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنایا گیا ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر اسلام مخالف پروپیگنڈا سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی گئ تھی جس پر جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژنل بنچ تشکیل دیا گیا جس نے چار صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ سنایا ہے.
اسلام آباد ہائی کور ٹ نے بدھ کے دن سنائے گئے اپنے فیصلہ میں‌ کہا ہے کہ ایف آئی اے اور پی ٹی اے سوشل میڈیا میں گستاخی میں ملوث افراد کا سراغ لگائے۔

سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کی گستاخی کے متعلق اسی نوعیت کی ایک پٹیشن پر عدالت پہلے ہی ایک جامع فیصلہ جاری کر چکی ہے. عدالت سلمان شاہد کیس کے فیصلے میں حکم دے چکی ہے کہ فریقین اس امر کو یقینی بنائیں۔ فیصلہ میں کہاگیاکہ سوشل میڈیا میں کسی بھی قسم کا گستاخانہ مواد کسی بھی صورت اپلوڈ نہ ہو اور یہ کہ سوشل میڈیا پر توہین رسالتﷺ کے متعلق سلمان شاہد کے کیس میں عدالت کا فیصلہ جامع اور تمام امور کا احاطہ کرتا ہے.

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بنچ کی جانب سے سنائے گئے فیصلہ میں‌کہا گیا ہے کہ بنیادی طور پر ایف آئی اے اور پی ٹی اے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اسلام اور انبیاء کی شان میں‌ گستاخی میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے. عدالت کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے اور پی ٹی اے سوشل میڈیا میں گستاخی میں ملوث افراد کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کریں۔ فیصلہ میں کہا گیا کہ عدالت کا رجسٹرار آفس توہین رسالت کے متعلق پٹیشنز کے ساتھ منسلک گستاخانہ مواد کو پبلک ریکارڈ کا حصہ نہ بنائے. فیصلے کے مطابق رجسٹرار آفس آئندہ احتیاط کرے کہ توہین رسالتﷺ کے متعلق پٹیشنز کے ساتھ منسلک گستاخانہ مواد پبلک ریکارڈ کا حصہ نہ ہو۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.