fbpx

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے گھر پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

ایف آئی اے ‎ سائبر کرائم ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال کے جوہر ٹاؤن میں واقع گھر پر نامعلوم افردا کی فائرنگ-

باغی ٹی وی : ایف آئی اے کے ایک قابل اور فرض شناس آفیسر سائبر کرائم ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال کے جوہر ٹاؤن میں واقع گھر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے کاروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے-

آصف اقبال سوشل میڈیا کے ذریعے صارفین کو فراڈ، بلیک میلنگ اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر سزا اور اس کا محتاط استعمال کرنے کے حوالے سے بتاتے رہتے ہیں وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اکثر و بیشتر ویڈیوز شئیر کرتے ہیں جن میں وہ عوام کو سوشل میڈیا سے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہیں-

واضح رہے کہ اس سے قبل سال 2020 میں سائبر کرائم ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال کو معطل کرکے کام سے روک دیا گیا تھا ایف آئی اے کی جانب سے جاری کیے گئے معطلی کے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے آصف اقبال نے محکمے سے اجازت لیے بغیر ٹوئٹر پر ذاتی اکاؤنٹ بنا رکھا تھا جہاں وہ آگاہی سے متعلق پیغامات پوسٹ کرتے تھےانہوں نے سائبر کرائم سے متعلق بغیر اجازت معلومات عام کیں جو کہ نظم وضبط کی خلاف ورزی ہے۔

جبکہ آصف اقبال نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں عہدے سے ہٹوایا گیا ہے اور وجہ وہ نہیں جو نوٹس میں بتائی گئی ہے بلکہ ایمان مزاری کی وہ ٹویٹ تھیں جو انہوں نے کچھ دن پہلے ان کے خلاف کی تھی عوام کو سوشل میڈیا سے متعلق آگاہی ہمارا فرض تھا، یہ کیسی کارروائی ہے جو عوامی مفادات کے حق میں کام کرنے پر کی گئی ہے۔

30 ستمبر 2020 کو وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے ایک ٹویٹ میں گلوکار علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان ہراسانی کے معاملے پر ایڈیشنل ڈائریکٹر کو ’علی ظفر کا ترجمان‘ قرار دیا تھا-