fbpx

ایف آئی اے نے عمران خان کا موقف مسترد کردیا

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے چیئرمین پی ٹی آئی کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے دوبارہ نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سے 1996 سے لیکر اب تک کا ریکارڈ مانگنے کے لئے نوٹس جاری کیا تھا، تاہم عمران خان نے دو روز قبل ایف آئی اے کے نوٹس کا جواب دینے سے انکار کردیا تھا، اور کہا تھا کہ میں آپ کو جوابدہ نہیں ہوں، اور نہ ہی معلومات فراہم کرنے کا پابند ہوں۔

دوسری جانب ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کے لئے ایف آئی اے نے عمران خان کا مؤقف مسترد کردیا ہے، اور عمران خان کو سوالات کے جواب کے لئے دوبارہ نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ عمران خان کو 3 بار نوٹس بھیجیں جائیں گے، اور 3 نوٹسز کرنے کے بعد ان کے وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔

ايف آئی اے ذرائع نے بتایا ہے کہ تحریک انصاف کی مزید 5 کمپنیوں کا سراغ لگا لیا گيا ہے، اور ان کمپنيوں کا تحريک انصاف کے گوشواروں میں ذکر نہیں ہے۔
ذرائع ايف آئی اے کے مطابق یہ کمپنیاں امریکا، برطانيہ، آسٹریلیا، بیلجیئم اور کینیڈا میں ہیں، ان میں سے کچھ کمپنياں بند ہو چکی ہیں، اور کچھ اب بھی فعال ہیں،

ذرائع ايف آئی اے کا کہنا ہے کہ بند ہونے والی کمپنیوں کی آڈٹ رپورٹس طلب کر لی گئی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سے 1996 سے لیکر اب تک کا ریکارڈ مانگنے کے لئے نوٹس جاری کیا تھا، تاہم عمران خان ایف آئی اے کے نوٹس کا جواب دینے سے انکار کردیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے انور منصور خان نے ایف آئی اے کو جواب بھجوا دیا ہے، جس میں انہوں نے ایف آئی اے کے نوٹس کا جواب دینے سے انکار کیا۔

عمران خان نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ میں آپ کو جوابدہ ہوں نہ ہی معلومات فراہم کرنے کا پابند ہوں، بلکہ دو دن میں نوٹس واپس نہ لیا تو آپ کے خلاف قانونی کارروائی کروں گا۔
عمران خان نے نوٹس بھجوانے کو ایف آئی اے کی بدنیتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سے تفصیلات اور دستاویزات طلب کرنا ایف آئی اے کے زیراثر ہونے کا مظہر ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ الیکشن کمشن نے فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں دیا بلکہ اس حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے، الیکشن کمیشن کسی ادارے کو اس رپورٹ کی بنیاد پر حکم جاری نہیں کرسکتا۔
عمران خان نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ایف آئی اے کے پاس پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے تحت کارروائی کا اختیار نہیں، جاری کیا گیا نوٹس ایف آئی اے ایکٹ سے بھی متصادم ہے، سپریم کورٹ متعدد فیصلوں میں الیکشن کمیشن کو انتظامی ادارہ قرار دے چکی ہے۔

عمران خان کی جانب سے تحریری جواب ایف آئی اے کمرشل بینک سرکل، اسلام آباد کی ڈپٹی ڈائریکٹر آمنہ بیگ کو بھجوایا گیا ہے۔

عمران خان سے 1996 سے لیکر اب تک کا پارٹی ریکارڈ طلب

ایف آئی اے کمرشل بینک سرکل نے عمران خان سے بینک اکاﺅنٹس سے متعلق تفصیلات طلب کی تھیں، اورعمران خان کو لکھے گئے خط میں تمام نیشنل اور انٹرنیشنل رجسٹرڈ تنظیموں کا 1996سے ریکارڈ مہیا کرنے کا کہا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے خط کے متن کے مطابق پارٹی کو ملنے والے فنڈز اور اکاؤنٹس کاریکارڈ فراہم کیا جائے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

تحقیقاتی ادارے نے پارٹی کے قیام سے اب تک پارٹی فنڈ کی مد میں جمع ہونے والی ممبر شپ فیس کا ریکارڈ بھی مانگا ہے۔

ادارے کی جانب سے پی ٹی آئی سے تمام ملکی اور غیر ملکی ڈونرز کے نام بھی طلب کیے گئے ہیں، جب کہ پارٹی اور متعلقہ کمپنیوں اور ٹرسٹیز کے اثاثوں اور واجبات کے سال وار سالانہ گوشوارے پارٹی کے قیام سے لیکر اب تک ہر سال کی الگ الگ پارٹی اور متعلقہ کمپنیوں اور ٹرسٹیز کے اثاثوں اور واجبات کے گوشواروں کی تفصیلات بھی ادارے کو فراہم کی جائیں۔

پارٹی کے فاننشل معاملات کو آڈٹ کرنے والے آڈیٹرز اور آڈٹ فرمز کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
پی ٹی آئی کو ملنے والی کیش ڈونیشن کے وہ کس کس ذرائع سے حاصل ہوئی اور کہاں کہاں خرچ ہوئی، اس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
پارٹی کے آفس بیریر کے نام، ان کے عہدے اور قومی شناختی کارڈ نمبر بھی مہیا کیا جائے۔