ایف آئی اے کے افسر نے وفاقی وزیر داخلہ کے اقدامات کو جانب دارانہ، غیر آئینی قرار دے دیا

0
46

ایف آئی اے کے افسر نے وفاقی وزیر داخلہ کے اقدامات کو جانب دارانہ، غیر اخلاقی اور غیر آئینی قرار دے دیا

خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی میں سفارتی عہدہ نہ ملنے کا رنج، ایف آئی اے میں تعینات پولیس افسر نے وزیر داخلہ کو کورٹ میں گھسیٹنے کا اقدام اٹھایا ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن میں مذکورہ پولیس افسر ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے اسٹیبلشمنٹ اسلام آباد عصمت اللہ جونیجو نے اپنا مئوقف اختیار کرتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ وفاقی وزیر داخلہ کے (جانب دارانہ، خلاف عقل ، غیر اخلاقی ، غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات) کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے درخواست گزار پولیس افسر عصمت اللہ جونیجو کو بیرون ملک تعیناتی کی اجازت دی جائے کیونکہ مذکورہ وفاقی وزیر داخلہ کے غیر قانونی اقدامات سے اس کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

جس پر عدالت نے ان سے اپنے الزامات کی بابت تحریری ثبوت مانگا۔ عصمت اللہ جونیجو کی جانب سے ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر لاء شگری نے جو کہ خود غیر قانونی طور پر عدالت میں موجود تھے کوئی جواب نہ دے سکے۔

یاد رہے کہ عصمت اللہ جونیجو نے ذاتی حیثیت میں وفاقی وزیر داخلہ کے خلاف یہ کیس دائر کیا ہے مگر ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر لاء شگری نے عصمت اللہ جونیجو کے ساتھ تعلق کی آڑ میں غیر قانونی طور پر عدالت میں پیش ہوکر ان کی نمائندگی کی۔ مذکورہ ڈپٹی ڈائریکٹر لاء کی تعیناتی اسلام آباد زون میں ہے مگر وہ ہیڈکوارٹرز میں تعینات عصمت اللہ جونیجو کی نمائندگی کرنے عدالت پہنچ گئے۔ عدالت نے ان کی تمام باتوں کو رد کرتے ہوئے ان کی درخواست خارج کر دی ہے مگر عصمت اللہ جونیجو کی وفاقی وزیرِ داخلہ سے ذاتی رنجش کی وجہ سے ایف آئی اے کی بیرون ملک آسامیوں کے لیئے مختص چار کروڑ روپے کا فنڈ بھی ضائع ہو گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق پسند کی جگہ پر پوسٹنگ یا ٹرانسفر کسی بھی سرکاری ملازم کا استحقاق نہیں ہے بلکہ یہ مجاز اتھارٹی کی صوابدید پر منحصر ہوتا ہے۔ مذکورہ پولیس افسر کو انٹرویو میں فیل ہونے پر وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ نے بہتر امیدواروں کی تعیناتی کے لیئے پالیسی بنانے کا حکم دیا تھا جس کے خلاف عصمت اللہ جونیجو نے پہلے میڈیا میں خبریں چلوائیں اور پھر وفاقی وزیر داخلہ کے خلاف غیر ضروری مقدمہ بازی شروع کر دی ہے۔ مگر وزیر داخلہ اعجاز شاہ کی جانب سے یا ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کی جانب سے عصمت اللہ جونیجو کے خلاف کوئی تادیبی کاروائی نہیں کی گئی۔

اس سلسلے میں ڈائیریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کو وٹس ایپ ایس ایم ایس کرکے ان کا مئوقف جاننے کے لیئے رابطہ قائم کیا گیا مگر تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ان کا مئوقف ملنے پر ادارہ ضرور شائع کرے گا۔ اس سلسلے میں ایڈیشنل ڈائیریکٹر ایف آئی اے عصمت اللہ جونیجو سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے وکیل اس بارے میں بہتر بتا سکتے ہیں اور ٹیلی فون بند کر دیا۔

Leave a reply