fbpx

سعودی عرب اورعرب امارات میں مفادات کی لڑائی سےتیل اتحاد کےمستقبل کو خطرات لاحق:عالمی طاقتیں بھی سرگرم

لاہور:سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ہونے والی لڑائی سے تیل اتحاد کےمستقبل کو خطرات لاحق،اطلاعات ہیں کہ قدیم مسلم برادر بلکہ اگریہ کہا جائے ایک ہی سعودی باپ کی اولاد جوصدیوں‌ سے ایک دوسرے پرقربان ہوتے تھے آج اپنے مفادات کی خاطرتمام اقدار اور کردار اورخاندانی اوراسلامی رشتے بھول گئے ہیںں‌، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جو کہ ایک ہی تسبیح کے دوموتی تھے اب ایک د وسرے سے جدا جدا ہوتے نظرآرہےہیں

شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والا گروپ اوپیک بحرانوں میں ڈوبا ہوا ہے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین تلخ کشمکش کے بعد توانائی اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھے ہیں۔

اوپیک اور غیر اوپیک شراکت دار جو دنیا کے سب سے طاقتور تیل پروڈیوسروں کا ایک گروپ ہے اس قدر اپنی حیثیت کھو چکا ہے کہ اسے اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے اوریہی وجہ ہے کہ تمام ترکوششوں کے باوجود بھی اوپیک میں‌کوئی جان نظرنہیں آرہی

اوپیک کی اس صورت حال کا مشاہدہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جولائی کے آخر میں خام تیل کی پیداوار میں ممکنہ اضافے پر کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے ، جس سے تیل کی منڈیوں کو ایک ایسی حالت میں چھوڑ دیا جارہا ہے جیسے عالمی سطح پر ایندھن کی طلب جاری کورونا وائرس وبائی امراض کی طرح کسی المیے کا شکارہوسکتی ہے

اوپیک کی اسی صورت حال کودیکھتے ہوئے "بی بی سی کیپٹل مارکیٹس میں عالمی اجناس کی حکمت عملی کی سربراہ ،ہیلیما کرافٹ نے ایک تحقیقاتی نوٹ میں کہا کہ ” سعودی عرب اور روس کے مابین پچھلے سال کی ناقابلِ یقین حد تک قیمتوں کے اتارچڑھاو نے جنگ کے بعد سے اوپیک کو اپنے انتہائی سنگین بحران سے دوچار کردیا گیا ہے۔

یہ بھی کہا جارہاہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان "مبینہ طور پر بیک چینل کی بات چیت جاری ہے ، لیکن متحدہ عرب امارات کے اوپیک میں باقی رہنے کے عزم کے بارے میں سوالات آنے والے دنوں میں بڑھتے جائیں گے۔”

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے لگ رہا ہے کہ شاید اب عرب امارات اب سعودی عرب کے زیرسایہ نہیں رہنا چاہتا اس لیے وہ اوپیک کے حوالے سے کچھ تحفظات رکھتا ہے اوردنیا میں‌ اب آزادانہ فیصلے کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہے

اوپیک جس پر مشرق وسطی کے خام پروڈیوسروں کا غلبہ ہے ، 2020 میں تیل کی قیمتوں کی حمایت کرنے کی کوشش میں خام تیل کی بڑے پیمانے پر کٹوتیوں پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا گیا جب کورونا وائرس وبائی امراض سے متعلق تاریخی ایندھن کی طلب کے جھٹکے سے ملا۔

اوپیک کو پیش آنے والے خطرات کے حوالے سے یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب اوپیک نے جمعہ کے روز تیل کی پیداوار میں اگست اور سال کے آخر میں روزانہ 400،000 بیرل یومیہ ماہانہ قسطوں میں تیل کی پیداوار میں 2 ملین بیرل اضافے کی تجویز پر ووٹ دیا۔ اس نے 2022 کے آخر تک بقیہ پیداوار میں کٹوتی کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔

حیرانی والی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی اس تجویز کوعرب امارات نے سختی سے مسترد کردیا جس سے ماہرین کے خدشات درست ثابت ہوئے کہ عرب امارات سعودی عرب کےسحر سے نکلتا چاہتا ہے

ایم آئل ایسوسی ایٹس کے آئل تجزیہ کار تامس ورگا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ شاید اب ان ملکوں کے درمیان اب فاصلہ کم نہ ہوسکے اور اوپیک ہی ان کے درمیان اختلافات کا سبب بن جائے

یہی وجہ ہے کہ میڈیا کے سامنے جب دونوں ممالک کے ممبران پیش ہوئے توسعودی عرب اورعرب امارات نے اپنا اپنا موقف پیش کیا جس سے صاف ظاہرہورہا تھا کہ اب دونوں اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑرہے ہیں‌

ایک طرف عرب امارات اس معاہدے کوقبول کرنے کے لیے تیار نظرنہیں آرہا تھا تو دوسری طرف اتوار کے روز متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے توانائی و انفراسٹرکچر سہیل المزروئی نے سی این بی سی کے ہیڈلے گیمبل کو بتایا ، "ہمارے لئے یہ اچھا سودا نہیں تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ جب کہ ملک تیل کی فراہمی میں قلیل مدتی اضافے کی حمایت کرنے پر راضی ہے ، وہ 2022 تک بہتر شرائط چاہتا ہے۔ سعودی عرب کے وزیر توانائی عبدالعزیز بن سلمان نے پیر کو ایک معاہدے تک پہنچنے کے لئے "سمجھوتہ اور عقلیت” پر زور دیا۔

اس صورت حال میں امریکہ بھی کود پڑا ہے اورامریکہ نے کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ اوپیک کی پالیسیوں کے تحت کام ہونا چاہیے جس کا مطلب عرب امارات کو یہ بات اچھی نہیں لگی

اوپیک کے دوبڑے ملک اورعرب النسل مسلم برادرملک سعودی عرب اورعرب امارت کے درمیان لڑائی سے یہ صورت حال واضح ںظرآرہی ہے کہ شاید یہ اتحاد اب برقرار نہ رہے اورعرب امارات کواس کا زیادہ دھچکہ لگے

اس خبر نے تیل کی قیمتوں کو اور بھی بڑھادیا۔ منگل کی صبح بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں فی بیرل .3 77.34 ڈالر کا سودہ ہوا جس میں سیشن میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ فیوچر 1.6 فیصد اضافے کے ساتھ 76.36 ڈالر رہا۔

ایک موقع پر ڈبلیو ٹی آئی کے خاموں نے .9 76.98 تک کی حد تک مارا ، جو نومبر 2014 کے بعد سب سے زیادہ قیمت تھی۔

کیپیٹل اکنامکس کے معاون اجناس اورمعاشی ماہر سیموئیل برمن نے کہا کہ اوپیک کے پروڈیوسر آئندہ ماہ کوٹے کے اوپر تیل کی پیداوار میں اضافے کا امکان رکھتے ہیں کیونکہ ممبر ممالک تیل کی اعلی قیمتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے مابین پھوٹ کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ابوظہبی شاید "کسی حد تک پریشان” تھا کہ روس اوپیک کے پروڈکشن کوٹے کی تعمیل نہیں کررہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ روس اب اس مارکیٹ پرحاوی نطرآتا ہے جواپنی مرضی سے یومیہ تیل کی پیداواربڑھا رہا ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ساری صورت حال سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ اب اوپیک پرعرب امارات سعودی عرب کی اجارہ داری نہیں چاہتا ، روس کی زیادہ مداخلت امریکہ کوقبول نہیں یوں ایک نئی جنگ شروع ہوگئی ہے جس انجام اوپیک کے خاتمے کی صورت میں ہوسکتا ہے دنیا پھربحرانوں میں لپٹ سکتی ہے اورتیل کی مارکیٹ پرقبضے کی جنگ شروع ہوسکتی ہےجس کا ترقی پزیرممالک کو بھی نقصان ہوسکتا ہے