fbpx

فرقہ واریت تحریر:سارا طاہر

ازل سے دشمنان اسلام مسلمانوں کے خلاف خطرناک سازشیں کرتے آئے ہیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ یہود و ہنود نے نہ کبھی سامنے سے وار کیا اور نہ کرنے کی ہمت رکھتا یے۔ اس لئے دشمنان اسلام کا ہمیشہ سے یہی طریق رہا ہے کہ وہ پہلے تو شیطانی سازشیں کرکے مسلمانوں کو اندرونی طور پر کمزور کرتے ہیں اور پھر بھرپور زور سے ان پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ اور ان سازشوں کا شکار ہو جانے کی اصل وجہ مسلمانوں کی مذہبی کمزوری ہے۔
دین اسلام کے دشمن، مسلمانوں کے دینی جذبات کو ٹھیس پہچانے اور ہمارے عقیدے کو کمزور کرنے کیلئے جعلی علماء کو چند پیسوں کے عوض خرید کر عام مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ اور ان میں دوریاں پیدا کرنے کے لیے ان کے دلوں میں دوسرے فرقوں کیلئے زہر بھرتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے متنفر کرتے ہیں۔
آج اسی فرقہ وارانہ نفرت کی وجہ سے مسلمان ایک دوسرے سے اتنا دور ہو چکے ہیں کہ دوسرے فرقوں کے خلاف یہود و ہنود کے ساتھ مل کر سازشیں کرنے لگے ہیں۔ اور ایک دوسرے پر کافر ہونے کا فتوی لگاتے ہوئے بالکل نہیں سوچتے۔
میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ کون ہوتے ہیں؟ اس بات کا فیصلہ کرنے والے کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر؟ مجھے قرآن کی کوئی ایک آیت دیکھا دیں جس میں اللہ تعالٰی نے کسی انسان کو یہ اختیار دیا ہو کہ وہ فیصلہ کر سکے کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر یا کس کا فرقہ درست ہے اور کس کا غلط؟ اللہ تعالٰی نے یہ فیصلہ انسانوں کے ہاتھ میں دینا ہوتا تو وہ کبھی میدان حشر اور قیامت کا وعدہ نہ کرتا جہاں صرف وہی فیصلہ کرے گا کہ کون مومن تھا اور کون کافر؟ کون صحیح راہ پر تھا اور کون غلط؟ ہمیں خدا نے دوسروں پر فتوی لگانے یا کافر یا مومن کا فیصلہ کرکے پروپیگنڈہ کرنے کیلئے نہیں بھیجا۔ اس نے ہمیں اپنی اطاعت اور اسکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے بھیجا ہے۔ ہماری قبر میں ہم سے ہماری زندگی اور اس میں کئے گئے اعمال کے بارے میں پوچھا جائےگا وہاں کیا جواب دیں گے؟ یہ کہ میں نے نماز تو کبھی نہیں پڑھی لیکن دوسروں پر کافر ہونے کے فتوے خوب لگائے یا یہ کہ میں نے آپ کے احکامات کو تو کبھی نہیں مانا پر دوسروں کی نیتوں اور عبادتوں پر انگلیاں اٹھائیں؟ فیصلہ کرنے والی ذات بس اسی کی ہے وہی جانتا ہے کہ کون دکھاوے کے سجدے کرتا یے اور کون عاجزی کے۔
اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم   سبھی  کچھ   ہو،  بتاو  تو مسلمان بھی ہو!
دور حاضر میں شیطان صفت لوگ سوشل میڈیا پر فیک آئی ڈی بنا کر خود کو مسلمان ظاہر کرکے ایسے بغیر سر پیر کے سوالات اٹھاتے ہیں کہ جس کے نتیجے میں لاعلمی میں ان کی سازش کا شکار ہو کر مسلمان ایک لاحاصل بحث شروع کر دیتے ہیں۔ جو شعیہ، سنی، دیوبندی، بریلوی جیسے فرقوں کو گالم گلوچ کرکے اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔ یوں کفار ہمیں اپنی چالبازیوں سے ایک دوست سے متفر اور تباہ و برباد کرتا چلا جاتا یے۔
مسلکی اختلافات کی ترجیح نے ہمارا مزاج ایسا بنا دیا ہی کہ ہمیں جہاں نہیں لڑنا چاہیے وہاں لڑتے ہیں اور جہاں لڑنا چاہیے وہاں چپ سادھے کھڑے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر مستحب ترک کرنے پر یا کراہت تنزیہی کے ارتکاب پر بھی مناظرے ہوجاتے ہیں، جیسے دعا بعد نماز جنازہ۔ یہاں کراہت یا استحباب پر تو خوب بحث و مباحثے ہوتے ہیں مگر سودخور  سے کوئی نہیں لڑتا  کی تم سود کیوں کھاتے ہو۔ کسی کا حق مارنے والے سے تو کوئی سوال نہیں کرتا کی تم نے دوسرے کا حق کیوں مارا، حالانکہ ان منکرات کے خلاف پوری شدت سے مزاحمت کرنے کا حکم(شریعت نے دیا) ہے۔ مسلکی اور فرقہ وارانہ فسادات اور اختلافات اس قدر غالب آ گئے ہیں کہ محرکات کا ارتکاب کرنے والے سے کوئی نہیں الجھتا۔
اگر آج ہم دیکھیں تو ہمارے ارد گرد چاروں طرف دشمنان اسلام ڈیرا ڈالا ہوا ہے۔ ہم مسلمانوں  کو توڑنے اور ہمارے اس پیارے وطن پاکستان پر قبضہ کرنے اور ہم مسلمانوں کو اپنا غلام بنانے کیلئے ہر طرح سے حملہ آور ہو چکے ہیں۔ قوم پرستی، فرقہ واریت لبرلز، اور سیاست کی صورت میں ہمارے درمیان دوریاں اور نفرتیں پیدا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
دشمنان اسلام ہمیں اپنوں کی صورت میں مارنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم بھی مسلکی اختلافات، سیاسی اختلافات اور ذاتی اختلافات کو بھلا کر ایک دوسرے کی کوتاہیوں کو نظر انداز کرکے ایک دوسرے کی غلطیاں معاف کرکے اتحاد اور اتفاق کے ساتھ پیار اور محبت کے ساتھ بھائی چارے اور اخوت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر دشمنان اسلام کو اسی کے طریقے سے شکست دیں۔
قرآن و سنت کی طرف سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پیغام اتحاد یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور فرقہ واریت کو کسی حال برداشت نہ کیا جائے ہمارا نام مسلمان ہے، ہمارا نام دیوبندی بریلوی اہل سنت  شعیہ سنی نہیں ہے
ارشاد باری تعالٰی ہے: کہ "اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ اور تفرقے میں نہ پڑو”۔ (آل _عمران_103)
اگر ہمیں فرقہ واریت کی اس دیوار کو توڑنا ہے تو ہمیں اپنے جماعتی تعصب اور آباںٔی تقلید سے ذرا بلند ہوکر اپنی عقل خداداد سے کام لینا ہوگا جو ہمارے سامنے اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالٰی کا پیام قرآن پاک کی صورت میں لائے، اس کے سوا کوئی نظام خدا تعالٰی کے نزدیک مقبول نہیں اسی کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالٰی نے لیا ہے اور یہی لائحہ عمل ہے جو ہم مسلمانوں کو فرقوں میں بٹ کر بکھرنے سے بچا سکتا ہے اور اسی پر عمل پیرا ہو کر ہم دشمنان اسلام کی سازشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
اللہ ہم سب مسلمانوں کو دشمنان اسلام کی سازشوں سے بچائے اور متحد ہوکر ایک امت بن کر رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
آمین یا رب العالمین

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!