fbpx

فردوس عاشق کالہجہ تلخ تھا،مگرسرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سےچلےجانا،تکبر،انااورافسرشاہی نہیں تواورکیاہے

لاہور: فردوس عاشق کالہجہ تلخ تھا،سرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سےچلےجانا،تکبر،انااورافسرشاہی نہیں تواورکیاہے ،اطلاعات کےمطابق سیالکوٹ میں پیش آنے والے واقعہ کے خلاف جس طرح مختلف لوگوں کے مختلف خیالات سامنے آرہے ہیں‌ وہاں کچھ دانشوروں نے بڑی خوبصورت بات کی ہے

جویریہ صدیق جو کہ نوجوان دانشورہیں وہ کہتی ہیں کہ مان لیا کہ معاون خصوصی ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا رویہ اے سی سیالکوٹ کے ساتھ تلخ تھا لیکن کیا دنیا نے اے سی صاحبہ کا رویہ نہیں دیکھا؟

 

جویریہ صدیق کہتی ہیں کہ فردوس عاشق اعوان عوامی سیاست دان ہیں انکو پلیٹ یا موروثیت میں کرسی اور عہدہ نہیں ملا ، وہ اپنے علاقے کی ایک سیاستدان ہیں اوروہ اپنی حلقے کی عوام کے لیے کسی بھی سطح تک جاسکتی ہیں لیکن ان کے ان جزبات کوکوئی تلخ رویہ کہے یا بدتمیزی تواس کا امکان توہوجاتا ہے ، کیونکہ ریاست عوام کوجواب دہ ہے اوراگرریاست کے ملازم ہی کام چورنکلیں توپھرعوام اورسیاستدان کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں

جویریہ صدیق کہتی ہیں کہ مان لیا کہ ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا لہجہ تلخ تھا وہ اس پر معذرت بھی کرلیں گی لیکن سرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سےچلے جانا افسر شاہی کے عمومی رویے کا عکاس ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پوری قوم نے دیکھا کہ اے سی صاحبہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے وہاں بڑے شاہانہ ، متکبرانہ اورباغیانہ اندازسے چلی گئیں اورلوگ اس کے انداز کوہی دیکھتے رہ گئے

جویریہ صدیق کہتی ہیں کہ خدارا پی ٹی آئی کی مخالفت میں کام چور، کرپٹ اورمتکبرافسران کی پشت پناہی چھوڑدیں یہ ہمارے ہی پیسے پرپل کرہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں ، اگرآج ان کی اصلاح نہ ہوئی توپھراے سی صاحبہ نہیں اے سی کا چپڑاسی بھی ہمیں دھکے دے کردفتر سے باہرنکال دے گا ، پھر نہ کسی کی عزت پرکوئی حرف آئے گا اورنہ ہی کوئی اسے برا کہے گا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.