مسلم مخالف شہریتی بل کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر ایک مسلح شخص کی فائرنگ

0
81

نئی دہلی :مسلم مخالف شہریتی بل کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر ایک مسلح شخص کی فائرنگ ،اطلاعات کےمطابق ہندوستان میں شہریت ترمیمی ایکٹ سی اے اے این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرے پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں اس درمیان دہلی میں جامعہ نگر میں سی اے اے کے خلاف ریلی میں شریک لوگوں پر ایک شدت پسند مسلح شخص نے فائرنگ کردی جس میں ایک طالب علم زخمی ہوگیا-

کے پی کے اور سندھ میں پولیو کے مزید 2 کیسز سامنے آگئے

ہندوستانی میڈیا کے مطابق سی اے اے اور این آر سی کے خلاف قومی دارالحکومت دہلی سمیت ملک کے گوشہ وکنار میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اس درمیان مہاتما گاندھی کے قتل کی برسی کے موقع پر سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف نکالی گئی ریلی میں شریک لوگوں پر ایک شدت پسند شخص نے فائرنگ کردی جس میں ایک طالب علم زخمی ہوگیا –

جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ؟ ساتویں منزل سے گرنے والی خاتون معجزانہ طور پر محفوظ

مسلح شخص کا نام گوپال بتایا گیا ہے اور وہ فائرنگ کرتے اور پستول ہوا میں لہراتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ لو آزادی چاہئے یہ لو آزادی اور دہلی پولیس زندہ باد کے بھی نعرے لگا رہا تھا -مسلح شخص کافی دیر تک ہوا میں پستول لہراتا رہا اور پولیس پاس میں ہی کھڑی تھی تاہم کافی دیر بعد مسلح شخص کو گرفتار کیا گیا ۔اس وقت کے بعد جامعہ نگر میں افراتفری اور خوف کا ماحول ہے ۔

واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر آگئے ہیں اور وہ پولیس کی مبینہ لاپرائی پر شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں -وہاں موجود بھیڑ کا کہنا ہے کہ ایک پرامن مظاہرہ ہو رہا تھا اور اسی وقت ایک شخص نے فائرنگ شروع کردی ۔

شکست خوردہ امریکہ، افغانستان میں اپنے افسروں کی لاشوں کی شناخت میں مصروف

ہندوستانی ٹیلی ویژن چینلوں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے دہلی میں ایک انتخابی ریلی میں مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے اشتعال انگیز نعرے لگوائے تھے جس میں دیش کے غداروں کو گولی مارو ۔۔۔۔ کے جیسے نعرے بھی شامل تھے اور جمعرات کو فائرنگ کا یہ واقعہ اسی انتخابی نعرے سے متاثر معلوم ہو رہا ہے –

دوسری جانب مہاتماگاندھی کے قتل کی برسی کے موقع پر سی اے اے اور این آرسی کے خلاف پورے ملک میں ریلیاں نکالی گئیں جامعہ ملیہ کے باہر بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے جامعہ سے راج گھاٹ تک ریلی نکالنے کی کوشش تاہم فائرنگ کے واقعے کے بعد وہ ریلی وہیں پر رک گئی جامعہ ملیہ کے باہر ہزاروں کی تعداد میں طلبا اور طالبات اور عام لوگ احتجاجی مظاہرہ میں شریک ہیں اور سی اے اے کے خلاف نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ دہلی پولیس کی لاپروائی پر شدید غم غصے کا اظہار کررہے ہیں –

ادھر شاہین باغ سمیت دہلی کے اٹھائیس سے زائد مقامات پر لوگ بدستور احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہیں ۔ ریاست اترپردیش کے بھی مختلف شہروں منجملہ لکھنو میں حسین آباد کے گھنٹہ گھر پر ہزاروں کی تعداد میں خواتین اور بچے پرجوش انداز میں احتجاجی دھرنے پر بیٹھے سی اے اے اور این آرسی کے خلاف نعرے لگارہے ہیں –

بہار ، جھارکھنڈ ، کرناٹک ، تلنگانہ ، مغربی بنگال ، راجستھان ، آسام، تریپورا اور ملک کی دیگر ریاستوں کے شہروں میں یس اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں – ہندوستانی میڈیا کا کہنا ہے دہلی میں اسمبلی انتخابات کے موقع پر سیاسی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات اور نعروں سے ماحول کافی خراب ہوسکتا ہے –

دوسری جانب بہار پولیس نے سی پی آئی لیڈر کنہیا کمار کو اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ سی اے اے اور این آرسی کے خلاف ایک ریلی نکال رہے تھے

Leave a reply