fbpx

فرقہ واریت مسلم دنیا بمقابلہ باقی دنیا. تحریر:حسان خان

کوئی بھی بڑا بین الاقوامی اخبار کھولیں تو مسلم ورلڈ والے سیکشن میں آپکو یمن ، شام ، عراق ، لبنان ، لیبیاء کی تباہی اور وہاں کی کٹھ پتلی حکومتوں کے آنے جانے کی خبریں ہی ملتی رہتی ہیں۔ امریکہ بہادر کی خاص "مہربانیوں” کے علاوہ جس چیز نے ان ممالک کی تباہی س بربادی میں اہم کردار ادا کیا وہ ہے ان ممالک میں فرقہ واریت کی بناء پر ایران اور سعودیہ عرب کی پرسکسی جنگ۔ ایران اور سعودیہ عرب کی اس پراکسی جنگ نے مسلم دنیا کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا یے۔ ایک چھوٹی سی مثال لے لیتے ہیں یمن میں ایران حوثی باغیوں کی امداد کرتا ہے اور سعودیہ ان باغیوں پر بم گراتا ہے مگر ان دونوں کے چکر میں تباہ یمن ہو رہا ہے مر عام مسلمان رہے ہیں اور کچھ دہائیوں پہلے تک ایک خوشحال ملک آج پتھر کے زمانے میں پہنچ چکا ہے۔ ایسی خبریں پڑھنے کے بعد ذہن میں سوال ضرور اٹھتا ہے کیا اسلام کے علاوہ دنیا کے کسی اور مزہب میں فرقے نہیں ہوتے ؟ اگر ہوتے ہیں تو کیا وہ بھی اسی طرح اپنے ہم مذہبوں کی تباہی و بربادی کا سامان مہیا کرتے ہیں ؟؟ آج ہم انہی سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرینگے
عیسائیت اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مزہب ہے اور اس کے پیروکاروں کی تعداد لگ بھگ دو ارب اڑتیس کروڑ سے زائد ہے اور 15 ممالک کا سرکاری مذہب ہے۔ عیسائیت کے دس فرقے ہیں جن کے بنیادی عقائد میں ایک دوسرے سے اختلاف ہیں اور ان میں زبانی گولہ باری بھی ہوتی رہتی ہے مگر عیسائی دنیا میں مذہب کی بناء پر ایک دوسرے کا قتل اور فرقہ وارانہ فسادات نہیں دیکھے جاتے اور ناں ہی ایک فرقہ دوسروں کے ساتھ کسی قسم کی پراکسی وار میں الجھا ہوا یے۔ اٹلی میں کیتھولک عیسائیت کے ماننے والوں کی اکثریت ہے جبکہ رومانیہ میں اسکے مخالف فرقے آرتھوڈوکس عیسائیت ماننے والوں کی اکثریت ہے مگر آپ کبھی نہیں سنیں گے ان دونوں فرقے والوں نے یورپ کے کسی ملک کو میدان جنگ بنایا ہوا ہو اور اس ملک میں اپنے فرقے والوں کی حکومت لانے کیلئے وہاں جنگ چھڑوا دی ہو
اسی طرح یہودیت ہے اس کے چار بڑے فرقے ہیں مگر جب بھی کہیں یہودیت بمقابلہ باقی دنیا ہو تو بنیادی اختلافات کے باوجود سارے یہودی متحد ہو جاتے ہیں تو سوال یہ ہے مسلمان ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟؟

ایران نے پوری القدس فورس بںا رکھی ہے جسکا مقصد بتایا جاتا ہے کہ یہ ملک سے باہر ایرانی مفادات کا تحفظ کرتی یے جبکہ حقیقت یہ ہے اس تنظیم کے زریعے ایران ہمسائیوں ممالک میں اپنے فراقے اور پسند کی حکومت بنانے کی جستجو میں مصروف ہے اسی مقصد کیلئے ایران نے لبنان میں حزب اللہ کو کھڑا کیا ، یمن میں حوثی باغیوں کی کھل کر حمایت کر رہا ہے اسی طرح سعودیہ عرب اپنے پسند کے گروہوں پر کھل تک ڈالروں اور ریالوں کی برسات کرتا رہتا ہے تاکہ اسکی ہم نظریہ حکومت قائم کی جا سکے۔ شام میں ایران بشار الاسد کا خاص اتحادی ہے جبکہ سعودیہ شامی حکومت کے خلاف مختلف ملشیاء کو جدید ہتھیار فراہم کر کے جنگ کی آگ کو مزید بھڑکا رہا ہے نیز یہ تمام عرب ممالک ایران اور سعودیہ کی سرد جنگ کا میدان جنگ بنایا ہوا ہے۔ ایرانی رکن پارلیمنٹ عصمت اللہ فلاحتفی شاہ کے مطابق ایران صرف شام میں اپنی پراکسی وار پر 30 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ سعودیہ عرب نے جتنا پیسہ بہایا اسکا کوئی حساب ہی نہیں۔
پاکستان میں بھی فرقہ وارانہ فسادات اور اپنے نظریات کی ترویج کیلئے دونوں ممالک نے اپنی اپنی پسند کی تنظیموں پر سرمایہ کاری کی جس کی وجہ سے پاکستان دہائیوں تک ان فسادات کی لپیٹ میں رہا اور آج تک ان فسادات اور نفرتوں کی سائے سے نکل نہیں سکا۔ ایران اور سعودیہ عرب مسلم دنیا کے امریکہ اور سویت یونین بن چکے ہیں جنکی آپسی پراکسی جنگوں نے کئی برادر اسلامی ممالک کو تباہ کر دیا ہے جس طرح امریکہ اور سابقہ سویت یونین کی سرد جنگوں نے کوریا ، ویت نام اور افغانستان سمیت کئی ملکوں میں جنگیں برپا کیے رکھیں آپ غور کریں جو ممالک ان دونوں کے حصار سے دور ہیں وہاں کوئی بدامنی فتنہ فساد نہیں ہے۔ ملائیشیا ، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش ایران و سعودیہ سے دور الگ تھلگ ہیں وہاں پر ان دونوں ممالک کی آپسی جنگ نہیں چھڑی ہوئی وہاں پر امن و سکون ہے۔

جس دن ان دونوں ممالک نے اپنے قدرتی وسائل کا استعمال جنگیں چھیڑنے کی بجائے اپنی قوم اور ملک کی بہتری پر خرچ کرنا شروع کیا اس دن اسلامی دنیا میں سکون آ جائے گا