fbpx

فلڈ وکٹم بچی کا ریپ ، مشی خان کا جذباتی پیغام

جیسا کہ سیلاب نے پورے ملک میں تباہی پھیر دی ہے سینکٹروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، گھر بار ، مال مویشی ہر چیز پانی کا ریلہ اپنے ساتھ بہا کر لے گیا ہے. لوگ بھوک سے بلک رہے ہیں. ایسے میں ان کی بھوک کا فائدہ اٹھا کر ان کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے. ایک ایسا ہی کیس سامنے آیا ہے جس میں بچی رو رو کر کہہ رہی ہے کہ راشن دینے کے بہانے کچھ لوگوں نے اسکے ساتھ زیادتی کی اور بچی یہ بتاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کررو رہی ہے. مشی خان اس واقعہ پر بول پڑی ہیں انہوں نے انسٹاگرام پر ایک وڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ” روز روز بچے بچیوں کے ریپ ہوتے ہیں ، انہیں قتل کر دیاجاتا ہے ، کیوں قانون حرکت میں نہیں آتا ، کیوں نہیں ان درندوں اور ہوس کے پجاریوں کو رسی کے ساتھ لٹکایا جاتا کیوں ان کو پھانسی

نہیں دی جاتی ؟ ایسے مجرموں‌کو پھانسی دی جائے اور مثال بنایا جائے تاکہ کوئی بھی ایسا گناہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے. زینب سے یہ سلسلہ شروع ہوا تھا اور آج تک نہ جانے کتنے بچے بچیاں ریپ کا شکار ہوئے ہیں ، ایسا کچھ واقعہ رونما ہو جائے تو بس ٹویٹر پر ایک ٹرینڈ چلتا ہے دو دن کےلئے اس کے بعد کسی اور طرف بات چلی جاتی ہے. فلڈ وکٹم بچی کو آٹے کی بوری کے پیچھے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ، کیا ہو گیا ہے ہماری قوم کو ان کی ہوس کیوں نہیں‌کم ہوتی ؟ہمارا نظام کب بدلے گا کب ایسے ملزمان کو سزا ملے گی ، چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ریپ ہورہے ہیں اور سب خاموش بیٹھے ہیں کیوں؟‌.