fbpx

سیلاب سے سندھ کے 9 اضلاع میں آثارقدیمہ کے18 مقامات کونقصان:پاکستان ریلوے بھی مشکلات میں گھرگیا

کراچی :بارشوں کے باعث سندھ کے 9 اضلاع میں آثارقدیمہ کے 18 مقامات کوبھی نقصان پہنچا ہے۔اطلاعات کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ آثارقدیمہ کے مقامات کی مرمت کیلئےٹھیکیداروں کو بغیر ٹینڈر کام کرنےکی پیشکش کی گئی ہے۔

محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حیدرآباد کا پکاقلعہ،میاں غلام شاہ کلہوڑو،میاں غلام نبی کلہوڑوکےمقبرےمتاثر ہوئے ہیں۔

عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

بارشوں سےٹنڈوفضل کےقدیمی مقبروں اورمسجدوں کوبھی نقصان پہنچا ہے۔ کوٹ ڈیجی کا قلعہ،مومل کی ماڑی، بھنبھور، سکھرکاساتواں آستانہ بھی متاثرہوا ہے۔

اس کےعلاوہ آمری میوزیم، رنی کوٹ کے آثارقدیمہ اور خدا آباد کی جامع مسجد میں بھی دراڑیں پڑگئی ہیں۔سیکریٹری آرکیالوجی نے بتایا ہے کہ ان مقامات کی مرمت کیلئے سیپرا قوانین پر عمل کریں گے تو دیرہوجائےگی۔

 

سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پرستمبرکا مہینہ بھاری :دومرتبہ اسٹیج سے گرگئے

ادھرملک میں بدترین سیلابی صورت حال اور ریلوے ٹریک پانی میں ڈوبے جانے کے باعث کراچی سے چلنے والی ٹرینیں تاحال معطل ہے جس کی وجہ سے محکمے کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

 

 

ذرائع کے مطابق کراچی سے ٹرین آپریشن مزید ایک ہفتے بند رہے گا جبکہ بلوچستان کا ٹرین آپریشن مزید ایک ماہ بند رہے گا، کراچی سے ملک کے دیگر شہروں کو 24 ٹرینیں یومیہ روانہ ہوتی ہیں

 

 

ذرائع نے بتایا کہ کراچی سے مسافر ٹرین آپریشن بند ہونے سے 30 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ کراچی سے گڈز ٹرینیں بند ہونے سے 20 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔کراچی سے ملتان تک مسافر ٹرین آپریشن مکمل بند ہے جبکہ ملتان سے پشاور کے درمیان خیبر میل کا ٹرین ہے۔اس حوالے سے ترجمان پاکستان ریلویز کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلویز کا ٹرین آپریشن بند ہونے اور ٹریک متاثر ہونے سے مجموعی طور پر 10 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔

کوئٹہ: لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹوں تک پہنچ گیا:

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان ریلویز کے ٹریک کتنا متاثر ہوا ہے، اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے، ریلوے ٹریک پر تاحال پانی جمع ہے اس لیے جائزہ لینے میں مشکلات درپیش ہیں۔

ترجمان پاکستان ریلویز کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ریلویز کو بحالی کے لیے 10 ارب روپے درکار ہے، کراچی سے ٹرین آپریشن ایک ہفتے کے اندر بحال کر دیا جائے گا جبکہ بلوچستان میں ٹرین آپریشن بحالی میں ایک ماہ سے زائد کا وقت لگے گا۔