fbpx

فوک گلوکارعنایت حسین بھٹی کی 23ویں برسی

عنایت حسین بھٹی جو ایک عہد کا نام ہیں فنی صلاحیتیوں سے مالا مال یہ فنکار وکیل بننے کی خواہش رکھتا تھا لیکن قسمت نے اداکار بنا دیا ۔انہوں نے گلوکاری اور اداکاری کے میدا ن میں سب کو پچھاڑ دیا ۔موسیقار فیروز نظامی کے کہنے پر فلموں میں گلوکاری کا آغاز فلم ” پھیرے “ سے کیا یہ پاکستان کی پہلی پنجابی اورسلور جوبلی فلم تھی اس فلم کی موسیقی بابا اے چشتی نے دی تھی۔اس کے بعد عنایت حسین بھٹی نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ہر سال ان کے بطور گلوکار سپر ہٹ گیت سامنے آئے ۔گلوکاری کے ساتھ اداکاری کے میدان میں بھی قدم رکھا اور 1955میں ان کی بطور اداکار جلن ،پاٹے خاںاور پتن ریلیز ہوئیں ان فلموں کے لئے عنایت حسین بھٹی نے گیت بھی خود گائے سب فلمیں ہٹ رہیں یوں یہ گلوکار بہترین اداکار بھی مانا گیا ۔ان کے گائے ہو ئے بہت سارے گیت مشہور ہوئے جیسے ”رناں والیاں دے پکن پراٹھے“ چن میرے مکھناں ،بے حد مقبول ہوئے۔

عنایت حسین نے دھمالیں بھی گائیں لال میری پت رکھیو اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔گلوکاری اور اداکاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے بھٹی پکچرز کی بنیاد بھی رکھی اور لازوال فلمیں تخلیق کیں ،بھٹی تھیٹر بھی بنانا ۔1985میں عنایت حسین بھٹی نے انتخابات میں حصہ بھی لیالیکن شکست ہو گئیتاہم ان کا جو اصل کام تھا اداکاری و گلوکاری اس میں ان کو مرتے دم تک بلکہ مرنے کے بعد بھی کوئی شکست نہ دے سکا۔عنایت حسین بھٹی نے اخبارات اور جرائد میں بھی لکھا ،ٹی وی کے پروگرام کئے، بطور میزبان انہوں نے اپنا ایک الگ مقام بنایا ۔پنجابی زبان کی ترویج کے لئے بے انتہا کام کیا۔عنایت حسین بھٹی کا رجحان صوفی شاعری کی جانب تھا انہوں نے اپنے عہد میں وارث شاہ،بلھے شاہ،خواجہ غلام فرید،اور میاں محمد بخش سمیت عظیم صوفی شعرا کا کلام گایا۔ آج ہی کے دن 1999 میں عنایت حسین بھٹی دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن وہ اپنی فنی صلاحیتوں کی وجہ سے آج تک اپنے پرستاروں کے دلو ں میں زندہ ہیں۔