جرمن چانسلرمیڈیکل سائنسدان کے احترام میں پیچھے چلتے ہوئے:اہل نظرکے لیے:ایوان اقتداروالوں کے لیے

0
23

برلن: جرمن چانسلرمیڈیکل سائنسدان کے احترام میں پیچھے چلتے ہوئے:اہل نظرکے لیے:ایوان اقتداروالوں کے لیے ،اطلاعات کے مطابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جواعزازاپنے وطن کی خدمت کرنے والے اہل علم لوگوں کو بخشا ہے اس کی مثال دنیا کے دیگرحکمرانوں‌ دیکھنے میں نہیں ملی

 

 

ذرائع کے مطابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل ترک نژاد مسلمان سائسداناعور شاہین اوران کی اہلیہ محترمہ اوزلیم کے اعزازمیں‌ تمام عہدے تمام شانیں بھول کرپیچھے پیچھے چل رہی ہیں

جرمن چانسلر انگیلا میرکل ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے خود پہنچی اوروہاں موجود مسلمان میاں بیوی طبی سائنسدان کے برابر یا ان کے آگے چلنے کوان مسیحاوں کی توہین سمجھی جنہوں‌ نے کرونا ویکسین تیارکرکے جرمنی کے لیے امید کی کرن پیدا کردی

جرمن چانسلر کے اس عہد سازرویے کوبہت زیادہ پزیرائی حاصل ہورہی ہے ،

دوسری طرف اس مثال کودنیا کے دیگرحکمرانوں کے لیے مثال بنا کرپیش کیا جارہا ہے کہ ہمیں بھی اپنے محسنوں ، اساتذہ ، طبیبوں کوایسے ہی عزت دینی چاہیے ، ویسے بھی جوقوم اپنے مسیحاوں کو عزت نہیں دے سکتے وہ کبھی بھی سکون کے ساتھ نہیں رہ سکتے

یاد رہےکہ جرمنی نے کورونا ویکسین کے موجد اوراسے تیار کرنے والے ترک نژاد موجدین کو جرمنی کا اعلی ترین سرکاری اعزاز سے نوازا ہے

دوسری طرف ترک حکومت نے اپنے اس ترک فرزند کی کوششوں کو سلام پیش کرتے ہوئے خراج تحسین سے نوازا ہے ،

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے جرمنی کے اعلی ترین سرکاری اعزاز ’’ستارہ جرات‘‘ کو ترک سائنسدانوں اوزلیم اور اعور شاہین کو عطا کیے جانے پر اس جوڑے کو مبارکباد پیش کی ہے۔

قالن نے اپنی ٹویٹ میں لکھاہے کہ ’’میں جرمنی کی جانب سے اعلی ترین سرکاری اعزاز کے حقدار ٹہرائے جانے والے ترک نژاد جوڑے اوزلیم اور اعور شاہین کو کوروناوائرس کے خلاف جنگ میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے بنی نو انسانوں کے لیے امید کی کرن بننے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘

یہ ترک نژاد مسلمان سائنسدان اوران کی اہلیہ محترمہ اوزلیم کون ہیں اوران کی طب کے میدان میں‌ گران قدرخدمات کیا ہیں ،ملاحظہ فرمائیں
جرمن کمپنی بیون ٹیک اپنی نئی ویکسین کی ہنگامی منظوری کے لیے سرگرم ہیں۔ کورونا وائرس کے خلاف اس غیر معمولی اہمیت کی حامل ویکسین کے پیچھے ترک نژاد جرمن میاں بیوی اووگر شاہین اور اُزلم توریچی کا ہاتھ ہے۔

Ugur Sahin und seine Frau Özlem Türeci
اس پروجیکٹ کا نام ”لائٹ اسپیڈ‘‘ تھا، جس پر کام کا آغاز جرمن کمپنی بیون ٹیک (BioNTech) نے اپنی امریکی پارٹنر کمپنی فائزر کے ساتھ مل کر رواں برس جنوری کے وسط میں کر دیا تھا۔ اس کمپنی نے کورونا کے خلاف ویکسین بنانے کا کام ایک ریکارڈ وقت کے اندر سر انجام دیا اور تب سے اس ویکسین پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ عام طور سے کسی ویکسین کی تیاری میں آٹھ سے دس سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ لیکن اس بار جرمن شہر مائنز سے تعلق رکھنے والے ان محققین نے ایک سال کے اندر اندر اس ویکسین کو تیار کر کے اس کی منظوری کے لیے اسے امریکا تک پہنچانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

نومبر کے وسط تک اس کی تیاری کا عمل مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد جرمن کمپنی بیون ٹیک اور اس کی امریکی پارٹنر کمپنی فائزر اس کی منظوری کے لیے درخواست دیں گی۔ اس طرح کورونا ویکسین کی تیاری کے سلسلے میں دنیا بھر کے ممالک کے مابین، جو مقابلے کی دوڑ جاری ہے، اُس میں یہ ایک جرمن اور ایک امریکی ادویات ساز کمپنی مغربی دنیا میں پہلے نمبر پر ہوں گے۔

اس ضمن میں یورپی دوا ساز ریگیولیٹری اتھارٹی ‘ای ایم اے‘ نے اکتوبر کے آغاز میں اس ویکسین کی منظوری کے حصول کا کام شروع کر دیا تھا۔ اس ویکسین کی حتمی جانچ کے لیے اسے دس ہزار افراد پر آزمایا جا رہا ہے۔ ای ایم اے کے مطابق منظوری کے عمل کو تیز رفتار کرنے کے لیے اب عبوری نتائج کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ ای ایم اے نے کہا ہے کہ منظوری کے فیصلے کے لیے، جب تک کافی معلومات دستیاب نہیں ہو جاتیں، تب تک عبوری جانچ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

اس ضمن میں یورپی دوا ساز ریگیولیٹری اتھارٹی ‘ای ایم اے‘ نے اکتوبر کے آغاز میں اس ویکسین کی منظوری کے حصول کا کام شروع کر دیا تھا۔

بائیوٹیک کمپنی بیون ٹیک کے پیچھے دو اہم افراد اووگر شاہین اور اُزلم توریچی ہیں۔ اس سال جنوری کے شروع میں، جب چین میں کورونا وائرس پھیل رہا تھا اور جرمنی میں شاید ہی کوئی اس وبائی مرض کو سنجیدہ لے رہا تھا، تب ہی ان دو ڈاکٹروں نے اپنی تحقیق کا آغاز کر دیا تھا۔ تین ماہ بعد ویکسین کے امیدوار ان کے کلینیکل تجربے کو آگے بڑھانے کے لیے تیار تھے۔

 

اب تک ان دونوں سائنسدانوں نے کینسر کے خلاف جنگ پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی تھی۔ روایتی کینسر کے علاج سے ان کا نقطہ نظر نمایاں طور پر مختلف ہے۔ ان دونوں محققین کا ماننا ہے کہ چونکہ کینسر کے کوئی بھی دو مریض ایسے نہیں ہوتے ہیں، جن میں کینسر کے خلیوں میں جینیاتی تغیرات بالکل ایک جیسی ہوں۔ اس لیے کینسر کے مریضوں کو سرجری، کیموتھراپی یا تابکاری کے طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ یکساں یا ایک ہی انداز میں ٹریٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔

ان دونوں ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ہر مریض کو ایک علیحدہ طریقے کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے، جو ان کے مطابق ان کی بیماری کی نوعیت کے حساب سے تیار اور فراہم کیا جانا چاہیے۔

یہ ڈاکٹر اس حقیقت کے قائل ہیں کہ جب بیکٹیریا یا وائرس کا حملہ ہوتا ہے تو انسانی جسم اکثر خود ان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ ان کا ہدف ایک ایسی امیونو تھراپی تیار کرنا ہے، جو مدافعتی نظام کو متحرک کرے۔

بیون ٹک کی بنیاد

2001 ء میں ان ترک نژاد جرمن ڈاکٹروں نے بائیو فارما سیوٹیکل ” گینیمیڈ‘‘ کی بنیاد رکھی، جو ‘امیونو تھیراپوئیٹک‘ کینسر کے خلاف ادویات تیار کرتی ہے۔ بعدازاں یہ کمپنی میں 422 ملین یورو میں فروخت کر دی گئی۔ اس کے بعد 2008 ء میں اووگر شاہین اور اُزلم توریچی نے کمپنی بیون ٹیک کی بنیاد رکھی۔

جرمن کمپنی نے امریکی کمپنی فائزر کے تعاون سے تیار کردہ ویکسین کے 90 فیصد تک کارآمد ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔

 

 

اس کمپنی کا مر کزی کام انفرادی کینسر کیسز کی امیونوتھراپی کے لیے ٹیکنالوجیز اور ادویات تیار کرنا تھا۔ ان کی ایجادات میں سے کسی کو بھی منظوری حاصل نہ ہو سکی۔ اووگر شاہین کمپنی بیون ٹیک کے سی ای او ہونے کے ساتھ ساتھ مائنز یونیورسٹی میں پڑھاتے بھی ہیں۔ ان کی اہلیہ اُزلم توریچی اس کمپنی کی میڈیکل ڈائریکٹر ہیں اور ان کی ذمہ داریوں میں کلینیکل ترقیاتی کام شامل ہیں۔ یہ بھی مائنز یونیورسٹی میں لیکچرر کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں۔

شاہین چار سال کی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ ترکی سے جرمن شہر کولون آ گئے تھے۔ کالج کے بعد اُنہوں نے کولون یونیورسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی۔ اب یہ 54 سالہ محقق کینسر کے خلیوں کی نشاندہی کرنے اور ان کے علاج کے لیے طبی ذرائع اور طریقوں پر ریسرچ کر رہے ہیں۔

شاہین کا کہنا ہے کہ وہ محض بیس سال کے تھے، جب انہوں نے لیبارٹری میں تحقیقی کام کرنا شروع کیا تھا۔ 1992ء میں شاہین نے کولون یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور بعدازاں کولون یونیورسٹی کلینک میں ‘ہیمیٹولوجی اور آنکولوجی‘ کے شعبے میں خدمات انجام دینے لگے۔ 1999ء میں ‘پوسٹ ڈاکٹرل تھیسس‘ مکمل کرنے کے بعد شاہین صوبے زارلینڈ کی یونیورسٹی کلینک چلے گئے۔ وہاں ان کی ملاقات اُزلم توریچی سے ہوئی، جو بعد میں ان کی شریک حیات بن گئیں۔

اس جوڑے کی ایک طویل مدت سے جاری جدوجہد اب ثمربار ثابت ہو رہی ہے۔ اووگر شاہین کے پاس اس وقت کمپنی بیون ٹیک کے اٹھارہ فیصد حصص ہیں۔ اس کمپنی کی شہرت اور اس کامیابی کے ساتھ مستقبل میں ان کا نام جرمنی کے امیرترین شہریوں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

Leave a reply