fbpx

فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ فوری سنانے کے مطالبے کی قرارداد اسمبلی میں جمع

تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ فوری سنانے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی گئی ہے

قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ اور سعدیہ تیمور کی جانب سے جمع کرائی گئی ،قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق تحریک انصاف نے 350غیر ملکیوں سے فنڈنگ لی تحریک انصاف نے بھارت اور اسرائیل سے بھی فنڈنگ وصول کی گزشتہ 8 سال تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس التواء کا شکار ہے جبکہ عمران خان نے 60 بار مختلف موقعوں پر عدالتوں سے التواء لیا چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کی فارن فنڈ نگ کا محفوظ فیصلہ حقائق کے مطابق سنایا جائے

ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایک ماہ میں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے تا ہم پی ٹی آئی دوبارہ عدالت پہنچی گئی اور اس فیصلے کو چیلنج کر دیا جس پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا، اور پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف ملا، الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے، تا ہم ابھی تک فیصلہ سنایا نہیں گیا، اتحادی جماعتیں بار بار مطالبہ کر رہی ہیں کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنایا جائے

فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

فارن فنڈنگ کیس،اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں معلومات قابل تصدیق نہیں ،وکیل

فارن فنڈنگ کیس تحریک انصاف پر کسی اور نے نہیں بلکہ بانی رکن اکبر ایس بابر نے کیا،بقول اکبر ایس بابر انہوں نے ممنوعہ فنڈنگ بارے عمران خان کو آگاہ بھی کیا تھا ایسے فنڈز لئے گئے جنکی پاکستان کا قانون اجازت نہیں دیتا، عمران خان نے کوئی ایکشن نہ لیا جس کی بنا پر وہ الیکشن کمیشن گئے

حالیہ ضمنی الیکشن میں شفاف ترین الیکشن کے باوجود اب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے مسلسل چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، اسکی اصل وجہ الیکشن میں دھاندلی نہیں بلکہ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کو مزید تاخیر کا شکار کروانا ہے