fbpx

ماضی میں جنگلات کاٹ دیئےگئے:زمینوں پرقبضےہوگئے :میں ایسانہیں ہونےدوں گا:وزیراعظم کاتقریب سےخطاب

اسلام آباد:ماضی میں جنگلات ختم کردیئےگئے:زمینوں پرقبضےہوگئے:لیکن میں ایسانہیں ہونےدوں گا،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے منعقعدہ کانفرنس سے وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف پاکستان میں ماضی میں جنگلات کاٹ دیئے جاتے رہے اورپھران زمینوں پر قبضے کرلیئے گئے اوردوسری طرف حال ہے کہ کہ ابھی سے صوبے کہنے لگے ہیں ہمارا پانی چوری ہوگیا

وزیر اعظم عمران خان نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلی پر کبھی توجہ نہیں دی گئی جبکہ کورونا وائرس کی طرح ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کسی سرحدی حدبندی سے آزاد ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں عالمی یوم ماحولیات کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت آنے سے پہلے تک پاکستان کی تاریخ میں صرف 64 کروڑ درخت لگائے گئے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے خیبرپختونخوا میں پانچ برس کے اندر ایک ارب درخت لگائے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہماری خیبرپختونخوا میں حکومت بنی اور ایک ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا تو اس سے پہلے کبھی کسی حکومت نے ایسا منصوبہ تشکیل دینے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہماری نظروں کے سامنے سے ملک کے جنگلات کو ختم کیا گیا، جنگلات کی زمینوں پر قبضے کرلیے گئے اور تب کسی حکومت کو کوئی فکر لاحق نہیں تھی‘۔

انہوں نے لاہور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی دارالحکومت میں آلودگی کا تناسب غیرمعمولی طور پر بڑھ چکا ہے کیونکہ مختلف منصوبوں کی تکمیل کے لیے سیکڑوں درختوں کو کاٹ دیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’ہمیں ایک موقع ملا کہ ہم آئندہ 10 برس کے دوران ایکو سسٹم کو بہتر کرلیں‘۔

عمران خان نے کہا کہ ایک طرف ہوس ہے اور دوسری طرف انسانیت اور جب ان کے مابین توازن برقرار نہ رہے تو کنزیومرازم کی وجہ سے انسانیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا حوالہ دے کر کہا کہ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث آبی وسائل کی کمی کی طرف اشارہ کیا اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں صوبے ایک دوسرے پر پانی چوری کا الزام لگاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا 80 فیصد پانی گلیشیئر سے آتا ہے اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ہمارے گلیشیئر متاثر ہور ہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بالخصوص وہ ممالک جن کے آبی وسائل گلیشیئر سے منسلک ہیں وہ زیادہ متاثر ہوں گے اور پاکستان ان میں شامل ہے۔وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارکس بنارہے ہیں ان کے لیے خصوصی گارڈز لگائے جائیں گے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.