fbpx

سابق لارڈ نذیراحمد مزید مشکل میں:1970کےاوائل میں زیادتی کرنےکا الزام لگ گیا

لندن :سابق لارڈ نذیراحمد مزید مشکل میں:1970کےاوائل میں زیادتی کرنےکا الزام لگ گیا،اطلاعات کے مطابق نیشنل ڈیسک:ایک عدالت میں ایک ایسا معاملہ اس وقت گونجا جب سابقہ سابق پیر نذیر احمد نے نو عمر میں ہی 2 چھوٹے بچوں کو بار بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اس وقت شیفیلڈ کرواؤن کورٹ میں 63 سالہ نذیر احمد کا مقدمہ چل رہا ہے جس پر 1970 کی دہائی میں متعدد جنسی جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔عدالت کو بتایا گیا تھا کہ یہ الزامات 2016 میں اس وقت سامنے آئے جب ایک مرد اور ایک خاتون نے پولیس سے رابطہ کیا۔

نذیر احمد جو پہلے روڈھرم کے لارڈ احمد کے نام سے مشہور تھے نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان پر جماعتوں پر 16 سال سے کم عمر کی لڑکی سے عصمت دری کرنے کی کوشش کرنے ، 14 سال سے کم عمر کے لڑکے کے ساتھ غیر مہذبانہ حملہ کرنے اور 16 سال سے کم عمر کے لڑکی کے ساتھ عصمت دری کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔

 

اس کے علاوہ ان کے بھائیوں 70 سالہ محمد فاروق اور 65 سالہ محمد طارق پر بھی جو 14 سال سے کم عمر کے لڑکے کے ساتھ بدتمیزی کا الزام لگایا گیا ہے ، لیکن وہ سماعت اور اس کا سامنا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

 

 

استغاثہ دینے والے ٹام لٹل کیو سی نے کہا کہ مبینہ متاثرین نے "اس وقت شکایت نہیں کی تھی”۔

مسٹر لٹل نے کہا ، "جن لوگوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی تھی وہ اس کو روکنے کے لئے بہت کم عمر تھے اور اس کے بارے میں کچھ کرنے سے بھی وہ قاصر تھے۔

جب نذیر احمد کو گرفتار کیا گیا اور اس خاتون کے الزامات کے بارے میں ان سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے عدالت میں ان الزامات کو مسترد کردیا تھا

 

 

مسٹر لٹل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لارڈ نذیر احمد کی 14 سال کی عمر سے قبل کی گئی حرکتوں کے الزامات کے ثبوت موجود ہیں

 

 

پراسیکیوٹر نے وضاحت کی کہ اس وقت جو قانون 14 سال سے کم عمر بچوں کو جماع کرنے سے سزا کا مرتکب نہیں ٹھہراتا ،لٰہذا اس وقت کے جرم کی وجہ سے اب سزا نہیں دی جاسکتی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.