ایف پی سی سی آئی، ایس ایم ایز اور صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کے وزیر اعظم کے فیصلے کی تعریف

کراچی (3 نو مبر 2020) فیڈریشن آف پاکستان چیمبر ز آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے صدر میاں انجم نثار نے وزیراعظم کو ایس ایم ایز اور انڈسٹریز کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کے جرا ت مندانہ اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے ایف پی سی سی آئی صنعتوں کو علاقائی تجارت سے مقابلہ کرنے کے لیے بجلی کے متوازی نرخوں کے لیے کوشاں تھی یہ جدوجہد اب پوری ہوئی ہے اور حکومت نے اس معاملے کو اہمیت دی ہے۔ بجلی کی کم لاگت سے مقامی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور افراط زر پر قابو پانے اور معاشی نمو کو فروغ دینے کا رجحان پیدا ہوگا۔وزیر اعظم کے اس اعلان کا صنعت کاروں، کاروباری طبقے اورتاجروں نے پرتپاک استقبال کیا ہے۔ میاں انجم نثار نے صنعت کاروں، کاروباری طبقے اورتاجروں کی جانب سے اس طرح کے معیشت دوست فیصلے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران صنعتی شعبے کے لیے توانائی کے اخراجات کم کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یکم نومبر سے، ایس ایم ایز کے لیے 30 جون 2021 تک استعمال ہونے والی اضافی بجلی کی قیمت میں 50فیصد کمی کی جائے گی۔

وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ یہاں تک کہ بڑی صنعتیں بھی بغیر پیک اور آف آور کے تصور کے بجلی کے اخراجات ہر وقت بارعایت ادا کریں گی۔ وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران صنعتوں پر شدید اثر پڑا تھا اور اب یہ ضروری ہوگیا تھا کہ صنعتی شعبے کو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں مدد دی جائے۔ میاں انجم نثار نے کاروبار، تجارت، اور صنعت کے شعبوں سے بھی کہا کہ وہ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور پیداوار اور برآمد کے حجم میں اضافے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

موجودہ حکومت نے پالیسی سود کی شرحوں میں پہلے ہی کمی کردی ہے اور اقتصادی زون کا ایک نیٹ ورک قائم کیا ہے جوکہ کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون، رسالپور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون، سیالکوٹ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون، گوجرانوالہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون، خیرپور اسپیشل اکنامک زون، راشاکئی اکنامک زون، گدون اکنامک زون۔ حاتار اکنامک زون، قائد اعظم بزنس پارک۔ اور خصوصی معاشی زونز نیشنل سائنس اینڈ ٹکنالوجی پارک، اسلام آباد، چین پاکستان رائے ونڈ، اور سندھ میں دھابیجی پر مشتمل ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملک کی معاشی و اقتصادی ترقی کے لیے تمام تر توانائیوں اور کوششوں کو بروئے کار لایا جائے۔ بجلی کے ریلیف پیکیج سے اخراجات کم کرنے میں مدد ملے گی اور صنعتیں اپنے علاقائی ہم عصروں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے قابل ہوں گی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.