فرانس سے مسلمانوں کی نفرت کھل کر سامنے آ گئی،کالا قانون دیکھ کر مودی بھی شرما جائے،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

فرانس سے مسلمانوں کی نفرت کھل کر سامنے آ گئی،کالا قانون دیکھ کر مودی بھی شرما جائے،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ آخر کار فرانس کے صدر کی مسلمانوں سے نفرت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ان کی طرف سے مسلمان رہنماؤں کو charter of republican values کو قبول کرنے کے لیے 15 دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے اور ساتھ ہی اس charter سے متعلق نکات کو French council of Muslim Faith کے سامنے بھی پیش کر دیا گیا ہے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نکات یہ ہیں کہ:اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے بجائے صرف مذہب سمجھاجائےگا اور مقامی مسلمان گروپوں میں بیرونی مداخلت بھی ممنوع ہوگی۔ مساجد میں اماموں کا تقرر سرکاری طور پر ہوگا اور انہیں کونسل کی جانب سے معزول بھی کیا جا سکے گا۔فرانس میں گھریلو تعلیم پر پابندی ہوگی اور مذہبی بنیادوں پر کسی سرکاری اہلکار کو دھمکانے پر بھی سخت سزا ہوگی۔نئے قانون کے مطابق تمام خاندانوں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول لازمی بھیجیں، بچوں کو ایک شناختی نمبر الاٹ کیا جائے گا جس کی مدد سے ان کی اسکول میں حاضری مانیٹر کی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں والدین کو قید سمیت بھاری جرمانے کی سزا سنائی جائے گی۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی شخص کی ذاتی معلومات اس شخص تک پہنچانے پر پابندی ہوگی جو اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہو۔ قانون سازی کا یہ بل 9 دسمبر کو فرنچ پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کیا جائیگا۔ لیکن مسلمان رہنماؤں پر یہ دباو ڈالا جا رہا ہے کہ ان کو یہ قانون ماننا پڑے گا تاکہ ملک میں کسی قسم کا انتشار نہ پھیلے ۔ اور بات یہیں نہیں رکتی بلکہ ایک اور قانون بھی فرانس میں لاگو کرنے کی تیاری کی جارہی ہے جس کے بعد فرانس میں مظاہرے بھی شروع ہو چکے ہیں۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اور وہ قانون یہ ہے کہ ملک بھر میں کہیں بھی اور کسی بھی قسم کے حوالے سےفرانس پولیس کے خاکے شائع کرنا قابل جرم قرار دے دیا جائے گا۔ نہ تو کسی اخبار،نہ ٹیلی ویژن چینل اور نہ ہی دیواروں پر اشتہار لگا کر فرانس پولیس کا کسی قسم کا مذاق اڑایا جائے گااور نہ ہی انہیں تضحیک کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی تصویر شائع کی جائے گی۔ پولیس آفسران کی تصویر یا ویڈیو بنانا بھی قانون کی خلاف ورزی consider ہو گی۔ اس دونوں قوانین کی ابھی تجویز آئی ہے مگر لاگو نہیں کئے گئے لیکن اس سے پہلے ہی فرانس کی عوام ان قوانین کے خلاف سڑکوں پرنکل آئے ہیں اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی جا رہی ہے اور علی الاعلان کہا جا رہا ہے کہ اس قسم کے کسی کالے قانون کو لاگو کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مطلب فرانس میں پولیس والوں کی ویڈیوز یا تصاویر بنا کر تضحیک کرنا تو غلط ہے اس پر تو قانون بن سکتا ہے لیکن مسلمانوں کے بارے میں یہ قانون بنانے کی بات نہیں کی گئی کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی نہ کی جائے ان کے گستاخانہ خاکوں پر پابندی نہیں لگائی جا رہی۔ دوسرا یہ کہ اس charter of republican values کے ذریعے یہ ہماری مذہبی تعلیمات کے تبلیغ پر بھی کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کہ امام بھی فرانسیسی حکومت کی مرضی سے لگایا جائے۔ جو حکومت کی مرضی سے کام کرے گا ورنہ اس کو ہٹا دیا جائے گا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر لوگوں پر یہ بھی پابندی ہو گی کہ وہ اپنے بچوں کو گھر میں کوئی تعلیمات دے سکیں۔ اور ہر بچہ سکول جائے گا تاکہ حکومت اپنی مرضی سے ان کی Brain washing کر سکے۔ اور ماں باپ ان کی گھر پر اصلاح بھی نہ کر سکیں۔ مسلمانوں کی آنے والی نسلیں وہی سکیھیں اور مذہب کو ویسے ہی سمجھیں جیسے وہاں کی غیر مسلم حکومت چاہتی ہے۔ اس لئے مسلمانوں کے لئے یہ قانون برداشت کرنا آسان نہیں ہے۔ ایک اہم نقطہ اور بھی ہے جس بنیاد پر ان قوانین کو بالکل بھی ignore نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر فرانس میں یہ مثال قائم کر دی جاتی ہے تو ایک تو فرانس میں رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ یہ ظلم ہو گا اور دوسرا یہ کہ پھر باقی ممالک میں بھی اسی طرح کے قوانین بنائے جائیں گے خاص کر کہ بھارت۔۔ مودی سرکار جس طرح سے فرانس کے صدر Emmanuel Macron کی حمایت کر رہی تھی اس کے پیچھے بھی یہی عزائم ہی تھے۔ جبکہ 20 کروڑ مسلمان پہلے ہی بھارت میں نسل کشی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اور یہ نسل کشی بھارتی حکومت کی سرپرستی میں ہو رہی ہے۔ کشمیر اور فلسطین میں پہلے ہی مسلمانوں کو مظالم کا سامنا ہے اس لئے اگر مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے خلاف بننے والے ان قوانین کو نہ روکا گیا تو معاملات بہت زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.