ورلڈ ہیڈر ایڈ

ایرانی لیور ٹرانسپلانٹ ٹیم کا پہلا فری میڈیکل کیمپ 17 اور 18 دسمبر کو لاہور میں ہو گا۔

لاہور: پاکستان میں پہلی بار یورپین سٹینڈرڈ کی حامل ایرانی لیور ٹرانسپلانٹ ٹیکنالوجی متعارف۔ ایرانی لیورٹرانسپلانٹ ٹیم کا پہلا فری میڈیکل کیمپ 17 اور 18 دسمبر کو لاہورمیں ہوگا جس میں ملک بھر سے آئے مریضوں کا فری چیک اپ ہوگا۔

بھارت پاکستان سے آزادکشمیر نہیں چھین سکتا،بھارت اپنی فکرکرے: بھارتی دفاعی ماہر

تفصیلات کے مطابق لیور ٹرانسپلانٹ کے حوالہ سے تہران (ایران) کے سب سے بڑے ”امام خمینیؒ ہسپتال“ کے ہیڈ آف لیور ٹرانسپلانٹ ڈیپارٹمنٹ ’’ڈاکٹر علی جعفریان‘‘ کی سربراہی میں ڈاکٹرز کی ٹیم 17 اور 18 دسمبر کو لاہور کے علاقہ 33-K شاہ جمال میں پاک ہیلتھ کیئر میں منعقدہ فری میڈیکل کیمپ میں شرکت کرے گی

جب سے خان آیا ہے ، پاکستان چھایا

اس میڈیکل کیمپ میں پاکستان بھر سے آئے لیور ٹرانسپلانٹ اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا معائنہ کیا جائے گا اس حوالہ سے کیمپ کے منتظم ڈاکٹر میاں عزیزالرحمٰن نے بتایا کہ پاکستان میں لیور ٹرانسپلانٹ کے مریض انڈین ویزہ نہ ملنے اور دیگر مشکلات کے سبب گذشتہ ایک ڈیڑھ سال سے مشکلات کا شکار تھے اور اب تک کئی مریض علاج نہ ہونے کے سبب زندگی کی بازی بھی ہارجاتے ہیں

میں‌ نے پہلے کہہ دیا تھاکہ ہندوستان ٹوٹ رہاہے ، اب تو یقین ہوگیا ہے ، بھارتی رہنما…

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم نے برادر اسلامی ملک ایران سے خصوصی درخواست کی جس پر وہاں کے محکمہ صحت نے تہران کے سب سے بڑے لیور ٹرانسپلانٹ ہسپتال کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر علی جعفریان کو اپنی ٹیم فوری پاکستان بھیجنے کی ہدایت کی یہ ٹیم 17 اور 18 دسمبر کو پاکستان میں لیور ٹرانسپلانٹ اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا معائنہ کرے گی

جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر

انہوں نے بتایا کہ انڈیا کی نسبت ایران کا لیور ٹرانسپلانٹ نسبتاً سستا اور وہاں کامیابی کا تناسب 98 فیصد ہے جبکہ انڈیا میں یہ تناسب 94 تھا۔ ایرانی ہسپتالوں کا معیار یورپین ہسپتالوں کے برابر ہے ہماری اس کاوش سے پاکستان کے لیور ٹرانسپلانٹ مریضوں کے لئے انقلاب برپا ہوجائے گا اور ایران کا ویزہ ایک دن میں ملے گا۔

جنگ آزادی کی طرح ہمیں شہریت قانون کے خلاف بھی لڑنا ہوگا: ہرش مندر

تہران سے لاہور کی براہ راست ہفتہ وار 2 پروازیں چلتی ہیں جن سے پاکستانی مریض مستفید ہو سکیں گے جبکہ ایران جانے والے مریض اور ان کے لواحقین پورے ملک میں جہاں چاہیں جا سکیں گے ان پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہوگی جبکہ اس کے برعکس انڈیا میں صرف ایک شہر کا ویزہ دیا جاتا تھا۔ڈاکٹر میاں عزیز الرحمٰن کا مزید کہنا تھاکہ لیور ٹرانسپلانٹ کے حوالہ سے پاکستان کے لئے یہ ایک بہت بڑی خوشخبری ہے اور اس کو مزید بہتر بنانے کے لئے پاکستانی وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور ایرانی حکام سے مسلسل رابطہ میں ہیں۔

Address: 33-K Shah Jamal, Lahore, Pakistan

Contact: 03041115551

info@phcclahore.com

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.