fbpx

ہمارا معاشرہ اور فری میڈیکل کیمپ ( ہومیوپیتھیک ) تحریر: عائشہ عنایت الرحمان

ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے کہ میں ریڈیو سن رہی تھی اک پروگرام چل رہا تھا ھومیو پیتھک ڈاکٹرز کے بارے میں جس کے ختم ہونے پر دوسرے کا شروع ہوگیا پھر تیسرے چھوتھےکا، اور یہ سلسلہ تقریبا سارا دن چلتا رہا ۔اور یہ ڈاکٹرز صاحبان سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج دعوے سے کر رہے تھے کہ ٹھیک ہو جائیں گی چاہے وہ کینسر ہو چاہے وہ گردے کی پتھری ہو چاہے وہ کچھ بھی ہو بغیرآپریشن کے علاج کر رہے تھے۔ایک ڈاکٹر صاحب نے تو یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایک مریضہ صاحبہ کا آپریشن ہوا تھا اس کے پیٹ میں پٹی رہ گئ تھی اور ڈاکٹر صاحب دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ پٹی بغیر آپریشن کے علاج سے ختم ہوگئی۔

ریڈیو پر وہ باقاعدہ اشتہار دے رہے تھے فری میڈیکل کیمپ کا کا۔

ان کا باقاعدہ ایک خاص وقت مقرر ہوتا ہے جس میں مریضوں سے براہ راست انٹرویو لیا جاتا ہے تو کوئی کرونا سےٹھیک ہوا ہوتا ہے تو کوئی کینسر سے ٹھیک ہوا ہوتا ہے تو کوئی دیگر بیماریوں سے ۔ ڈاکٹر صاحب کا ایک اور انہونی دعویٰ کے اگر میرے علاج سے آپ صحت یاب نہ ہوے تو اپنے علاج کے پیسے واپس لے سکتے ہیں۔

مسلسل ایک ہفتہ اس پروگرام کو سننے کے بعد مجھ پر بھی اتنا اثر ہوا کہ میں نے بھی ڈاکٹر کے پاس جانے کا فیصلہ کیا فری میڈیکل کیمپ کے دن۔
چونکہ میں گاؤں سے جا رہی تھی شہر تو میں نے چھ سات ہزار روپیہ ساتھ لیں کیوں کہ کچھ ضروری سامان بھی لانا تھا۔

جب پہنچ گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایک عالیشان بلڈنگ کھڑی تھی جو کہ ہمارے سادہ لوح عوام کی لوٹ کھسوٹ سے بنی ہوئی تھی گیٹ پر باقاعدہ بندوق تھامے گارڈ کھڑا تھا اندر بہت سارے مشٹنڈے پھر رہے تھے۔ زنان خانے میں جیسے ہی داخل ہوگئی تو اک نظر خواتین پر ڈالی، زیادہ تر خواتین قبائلی تھیں جو کہ پھٹے پرانے برقعوں میں بیٹھے ہوئے تھیں۔

یہ وہ خواتین تھیں جو فری میڈیکل کیمپ کی لالچ میں میری طرح آپہنچے تھیں۔
جیسے ہی میں بیٹھ گئی ریڈیو کا نمائندہ بھی پہنچ گیا ایک ایک سے انٹرویو لینے لگا کہ آپ کو کیا بیماری ہے اور آپ کب سے ڈاکٹر صاحب سے علاج کر رہی ہیں لیکن سب خواتین نے یہی جواب دیا کہ ہم پہلی دفعہ آئی ہیں اور ریڈیو پر ہم نے ڈاکٹر صاحب کی بہت تعریف سنی ہیں اس لئے ہم آئے ہیں ۔ میں نے بھی یہی جواب دیا کہ میں تو پہلی دفعہ آئی ہو۔ لیکن ڈاکٹر صاحب جو ریڈیو پر انٹرویو لیتے تھے تو وہ تو کہتے تھے کہ ہمیں فلاں فلاں بیماری ہے اور ہم ٹھیک ہوگئے ہیں اور سال دو سال سے علاج کر رہے ہیں لیکن یہ تو سب پہلی دفعہ ہی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب جھوٹ موٹ کا انٹرویو تھے ۔ جو میرے سامنے انٹرویو ریڈیو کے نمائندے نے لئے تو وہ نمائندہ جلدی جلدی باہر نکلا اور وہ انٹرویو میں ریکارڈ نہیں کیے۔

میں وہاں بیٹھ کر ان غریب عورتوں کی حال پر سوچتی رہی اور افسوس کرتی رہی۔ جب لیڈی ڈاکٹر نے مجھے بلایا جیسے ہی میں اندر داخل ہو گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایک کالی کلوٹی نیلگوں مائل خاتون کرسی پر تشریف فرما تھی جس نے رنگ گورا کرنے کی کریم بھی ایجاد کی ہوئی ہے اور ہر بڑے سٹور پر دستیاب ہے لیکن خود اپنا رنگ گورا نہ کر سکی۔

خیرجب ڈاکٹر نے میرا معائنہ کیا اور ٹیسٹ کروائیں، وہ ٹیسٹ باہر پر پر سات سو 700 کے ہو جاتے ہیں لیکن ان کے فری میڈیکل کیمپ میں پندرہ سو 1500 کے ہوگئے اور دوائی انہوں نے دی پانچ ہزار 5000 کی۔ میرے پاس جانے کا کرایہ بھی باقی نہ رہا، نہ صرف میں بلکہ کہ ہر کسی سے پانچ ہزار اور چھ ہزار کا مطالبہ ہو رہا تھا ۔

میں نے ایک چھوٹا سا احتجاج شروع کیا کہ یہ پیسے کم کر دیے جائے لیکن بے سود۔ آخر کار غصے میں آکر وہ دوائی لے لی اور سیدھے ڈاکٹر روم میں چلی گئی میں نے غصے سے دوائی کی شاپرکو ہوا میں لہرایا میں نے کہا کہ جی یہ فری میڈیکل کیمپ ہے اور یہ دوائی آپ نے 5000 کی دی ہوئی ہے، جس کی ہر ڈبے پر قیمت لکھی ہوئی ہے جو کہ ڈیڑھ سو ڈھائی سو اور ایک سو ستر سے زیادہ نہیں تھی جو بے شمار دوائیاں ملا کر سب کی قیمت دوہزار تک نہیں بنتی تھی۔

میں نے آواز اٹھائی کہ یہ کہاں کا انصاف ہے یہ فری میڈیکل کیمپ کے نام پر ہم سادہ اور غریب عوام کو کو لوٹا جا رہا ہے ڈاکٹر صاحبہ میرے رویے سے ذرا گھبرا گئی اور جلدی سے مجھے 500 روپے واپس کر دیے اور کہا کہ بی بی ناراض نہ ہو اس سے گھر چلے جانا ۔

مجھے بہت افسوس ہوا کہ یہ ہمارے معاشرے کے نام نہاد ڈاکٹرز ہے، یہ ڈاکٹر نہیں بلکہ ڈاکو ہے جو کہ مسیحائی کے نام پر قصائی بنے ہوئے ہیں ۔ یہ ظالم ہمارے غریب عوام کو فری میڈیکل کیمپ کے نام پر بے وقوف بنا رہے ہیں۔

یہ ہمارے معاشرے کے نام نہاد ہومیوپیتھک ڈاکٹرز ہے۔ ہمیں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں نہیں آنا چاہیے ۔ یہ ریڈیو پر جتنے بھی اشتہار چل رہے ہوتے ہیں یہ سارے جھوٹ موٹ کےہوتے ہیں ۔ ہمیں ان سے بچنا چاہیے۔
ان کی روک تھام ہمارے وزیر اعظم اور ہمارے پولیس کا کام نہیں ہیں بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم خود سمجھ بوجھ سے کام لے اور اس طرح کے اشتہاری ڈاکٹرز کے پاس نہ جائے تو یہ خود ہی ناکام ہو جائیں گے۔

آئیے ہم اپنی پیارے پاکستان کو اس ناسور سے پاک کرے۔
@koi_hmmsa_nhe