fbpx

مرتضیٰ علی شاہ سےکاوےموسوی نےعظمت سعید شیخ اورعمران خان کےبارے میں‌ کیاکہاکہ پسینےچھوٹ گئے

لندن ::مرتضیٰ علی شاہ سےکاوےموسوی نےجسٹس عظمت سعید شیخ،عمران خان اورعلی زیدی کےبارے میں‌ کیا کہ پسینے چھوٹ گئے ،اطلاعات کے مطابق براڈشیٹ ایل ایل سی کے سی ای او کاوے موسوی نے نے مرتضٰی علی شاہ سے گفتگو کرتے ہوئے بڑی خبردیتے ہوئے خطرے کی گھنٹی بجادی ،

اطلاعات کے مطابق براڈشیٹ ایل ایل سی کے سی ای او کاوے موسوی نے پاکستان میں براڈشیٹ کمیشن کی انکوائری رپورٹ مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر علی زیدی اور جسٹس شیخ عظمت سعید ان کے ساتھ رابطے میں تھے اور انھوں نے یقین دلایا تھا کہ وہ انھیں براڈ شیٹ کمیشن کے سامنے طلب کریں گے لیکن انھوں وعدہ شکنی کی۔

انھوں نے کہا کہ اگر براڈشیٹ کمیشن نے رپورٹ میں ان پر لگائے گئے توہین آمیز الزامات پر معذرت نہ کی تو وہ لندن ہائیکورٹ میں ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیں گے۔براڈشیٹ کے سی ای او نے کہا کہ جسٹس سعید کو سول توہین اور کرمنل توہین کا فرق معلوم نہیں ہے جبکہ قانون کا پہلے سال کا طالبعلم بھی اس فرق کو جانتا ہے۔ انھوں نے تیل کمپنی Vitol کے مقدمے میں اپنی سزا کو اپنے لئے اعزاز قرار دیا۔

مرتضٰی علی شاہ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس وقت میں نے جو کچھ کیا، اس پر مجھے فخر ہے۔انھوں نے کہا کہ جسٹس سعید کو معلوم نہیں کہ میری اس سزا کی نوعیت یہ تھی کہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے مجھے پبلک لا کی فیکلٹی کا سربراہ بنا دیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ نیب کے خلاف مقدمہ جیت کر پاکستان سے کم وبیش 30 ملین پونڈ حاصل کرنے کے بعد وفاقی وزیر علی زیدی میرے ساتھ رابطے میں تھے اور انھوں نے یقین دلایا تھا کہ براڈشیٹ کمیشن ان کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔

انھوں نے مرتضیٰ علی شاہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں عمران خان سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں لیکن اب انھیں شدید مایوسی ہوئی ہے کیونکہ علی زیدی نے کبھی اپنی یقین دہانیوں کو پورا نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں عمران خان سے کہوں گا کہ مجھے ان سے بڑی امیدیں تھیں لیکن تمام امیدیں غلط ثابت ہوئیں۔موسوی نے کہا کہ جسٹس سعید نے ظاہر کیا تھا کہ وہ عدالتی تحقیقات کر رہے ہیں لیکن انھوں نے کلیدی گواہ کو طلب ہی نہیں کیا اور مجھ پر الزام عائد کردیا۔

انھوں نے کہا کہ اگر جسٹس سعید نے 7 دن کے اندر ان سے معافی نہیں مانگی تو وہ لندن ہائیکورٹ میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کردیں گے۔انھوں نے کہا کہ جسٹس سعید نے ڈاکٹر عائشہ صدیقہ پر بھی الزام عائد کیا ہے جو مصالحتی عدالت میں براڈشیٹ کی جانب سے پاکستانی ماہر کے طورپر پیش ہوئی تھیں، ڈاکٹر صدیقہ کا نام ماہر کی حیثیت سے آکسفورڈ یونیورسٹی نے تجویز کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.