fbpx

پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

طبی تحقیقی ماہرین نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطیس کے مرض میں مبتلا نوجوان مریضوں میں دل کا دورہ پڑنے اور فالج ہونے کے امکانات بہت زیادہ پائے گئے ہیں کیونکہ ان کی اکثریت ناصرف موٹاپے کا شکار ہے بلکہ ان میں سے اکثر سگریٹ نوشی، ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی زیادتی کا بھی شکار ہیں۔

موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

کراچی میں منعقدہ پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کی جانب سے منعقدہ تیسری سالانہ کانفرنس میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق کراچی میں ذیابیطیس یا شوگر کے نئے مریضوں اوسط عمر 30 سے 35 سال ہے، جن کی اکثریت یعنی 77 فیصد مریض موٹاپے کا شکار ہیں-

تحقیق کے مطابق شوگر کے مرض کا شکار نوجوان اور جوان مریض نہ صرف ان کنٹرولڈ شوگر یا شوگر کی زیادتی کا شکار پائے گئے بلکہ ان کے خاندان میں بھی شوگر کا مرض پایا گیا جس کی وجہ سے ان میں جلد دل کا دورہ پڑنے یا فالج ہونے کے امکانات بہت زیادہ پائے گئے ہیں۔

کانفرنس میں تحقیقی مقالہ پیش کرنے پر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ عسکری کو کانفرنس کے دوران پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن ریسرچ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

دوسری جانب ایک دو نہیں بلکہ 11 تحقیقی مقالوں سے ثابت ہوا ہے کہ اگر موٹے افراد صرف تین ماہ تک اپنی غذا میں سبزیوں کی شرح بڑھادیں تو مثبت اثرات صرف تین ماہ میں ہی سامنے آسکتے ہیں اس سے نہ صرف وزن میں کمی ہوتی ہے بلکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس بھی قابو میں آجاتی ہے اس ضمن میں 18 برس یا اس سے زائد عمر کے 800 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں پہلے سے ہی کئے گئے سروے کا دوبارہ جائزہ (میٹا اینالِسس) کیا گیا ہے۔ یہ تحقیقات بہت جلد ہی موٹاپے کی یورپی کانفرنس میں پیش کی جائے گی۔

کوپن ہیگن میں واقع اسٹینو ڈائبیٹس سینٹر کی ماہر اینی ڈیٹے ٹرمانسن اور ان کے ساتھیوں نے تمام ڈیٹا جمع کرکے اس کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے اور اسے شائع بھی کرایا ہے۔

تاہم یہاں سبزیوں والی غذاؤں کا مطلب، پھل، دالیں، لوبیا، اور گری دار پھل ہیں انہیں کھانے سے ٹرائی گلائسرائیڈ یا بلڈ پریشر پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن طویل مدتی استعمال سے کچھ اورنتائج ملے ہیں۔ اس ضمن میں مارچ2022 تک انگریزی زبان میں شائع شدہ تمام تحقیقات کو شامل کیا گیا ہے۔

ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

اس ڈیٹا میں 800 سے زائد افراد سے معلومات جمع کی گئیں جن میں دل اور ذیابیطس کی وجہ بننے والے بایومارکرز یعنی وزن، بی ایم آئی، خون میں گلوکوز کی مقدار، بلڈ پریشر، ہر طرح کا کولیسٹرول اور دیگر چکنائیاں یعنی ٹرائی گلیسرائیڈز شامل تھے۔ تقریباً ساری تحقیقات میں ہی شرکاکو دو گروہوں میں بانٹا گیا تھا جن میں عام گروپ کے لوگوں کو ان کی مرضی کی غذائیں کھانے کی آزادی تھی جبکہ کنٹرول گروپ کے شرکا کو پھل اور سبزیوں پر مشتمل غذائیں دی گئی تھیں۔

ماہرین نے 12 ہفتے یعنی تین ماہ تک سبزیاں کھلائیں تو اکثر افراد کے وزن میں پانچ کلوگرام تک کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح خون میں شکر کی مقدار بہتر ہوئی، کولیسٹرول قابو میں آیا اور بی ایم آئی میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔

جبکہ عام غذا استعمال کرنے والے میں کوئی خاص فرق نہیں دیکھا گیا۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ بڑھے ہوئے وزن کے شکار اور خود ذیابیطس کے کنارے پہنچنے والے افراد اب بھی پھل اور سبزیوں کو اپنی غذا میں شامل کرکے اپنی صحت بہتر بناسکتے ہیں۔

ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق