مستقبل کے ستاروں کے پاس خود کومنوانےکا بہترین موقع

کراچی، 19 فروری 2021ء:
ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ ہر سال ابھرتے ہوئے نوجوان ستاروں کواپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔یہ لیگ ان باصلاحیت کھلاڑیوں کو دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔
ایچ بی ایل پی ایس ایل اپنے گزشتہ پانچ ایڈیشنز میں شریک نوجوان کھلاڑیوں کے لیےایک شاندار پلیٹ فارم ثابت ہوچکا ہے۔ حسن علی اس پلیٹ فارم کی سب سے نمایاں مثال ہیں، جنہوں نے ایچ بی ایل پی ایس ایل کی فرنچائز پشاور زلمی سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے خود کو ایک نامورکھلاڑی کی حیثیت سےمنوالیا۔ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھنے کے ایک سال بعد ہی پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان سپر لیگ اپنے سٹیج سے شاداب خان، حیدر علی، عمر خان، ارشد اقبال اور روحیل نذیر جیسے کھلاڑیوں کو بھی متعارف کروا چکا ہے۔ایچ بی ایل پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن میں شریک تمام چھ ٹیمیں اس مرتبہ بھی اپنے پلیٹ فارمز سے دو نئے ایمرجنگ کھلاڑیوں کو متعارف کروارہی ہیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ:
محمد وسیم جونئیر ایک باصلاحیت میڈیم فاسٹ باؤلر ہیں۔محمد وسیم جونیئر گزشتہ سال جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے آئی سی سی انڈر19 کرکٹ ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستان انڈر 19 کے اسکواڈ میں شامل تھے،انہوں نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف گروپ میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کو فتح سے ہمکنار بھی کیا تھا۔محمد وسیم جونیئر کا کہنا ہے وہ ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں پرفارمنس کی بنیاد پر ایچ بی ایل پی ایس ایل کا حصہ بننے پر خوش ہیں اور وہ اپنی کارکردگی سے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔
اُدھر احمد صفی عبداللہ بھی ایک نوجوان اسپنر ہیں،ایچ بی ایل پی ایس ایل کے گذشتہ ایڈیشن میں انہوں نے اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے تین میچوں میں 8.12کےاکانومی ریٹ سے چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔احمد صفی عبداللہ ڈومیسٹک سیزن 21-2020میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں۔ انہوں نے سنٹرل پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے نہ صرف دس10 میچوں میں 245 رنز بنائے بلکہ اپنی اسپن باؤلنگ سےبھی 34 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

کراچی کنگز: محض 18 سالہ قاسم اکرم نے حال ہی میں ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ قاسم اکرم نے کمنٹریٹر اور تجزیہ کار بازید خان کو بھی اپنی صلاحیت سے متاثرکیا، وہ مڈل آرڈر پر بیٹنگ کرنے والے ایک باصلاحیت کرکٹر ہیں اوراننگز کے اختتامی اوورز میں اچھاعمدہ کھیل پیش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
قاسم اکرم بھی آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ2019 میں پاکستان کے اسکواڈ کا حصہ تھے۔ اگرچہ انہوں نے چار اننگز میں صرف 93 رنز ہی بنائے تھے مگر اس دوران ان کے رنز بنانے کی اوسط 46.50 رہی تھی۔ انہوں نے ایونٹ میں 3 وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔
قاسم اکرم نےحالیہ فرسٹ کلاس سیزن میں تین نصف سنچریوں کی مدد سے 389 رنز بنائے اور آل راؤنڈر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 13 وکٹیں بھی حاصل کیں، انہوں نے سنٹرل پنجاب کو مشترکہ ونر کا اعزاردلوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس موقع پر قاسم اکرم نے اہنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سے تعلق رکھتے ہوئے کراچی کنگز کی نمائندگی کرنا وہ اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایونٹ ان کے لیے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا ایک بڑا موقع ہے۔
اُدھر محمد عباس آفریدی کا انتخا ب وسیم اکرم نے کیا ۔ وسیم اکرم کا کہناہے کہ انہوں نے محمد عباس آفریدی کی ویڈیو دیکھی، نوجوان فاسٹ باؤلر کے ایکشن نےانہیں متاثر کیا۔عباس آفریدی کا تعلق فاٹا سے ہے۔
عباس آفریدی کو آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میں بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا۔ پانچ میچوں میں نو وکٹیں حاصل کرنے والے عباس آفریدی اس ایونٹ میں پاکستان کی طرف سے سب زیادہ وکٹیں حاصلر کرنے والے باؤلر تھے۔

لاہور قلندرز:
لاہورقلندرز نہ صرف نئے کھلاڑیوں کی تلاش سے جانی جاتی ہے بلکہ ان کا ڈویلپمنٹ پروگرام ان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا بہتری موقع بھی فراہم کرتا ہے۔خیبرپختونخوا کے علاقے جمرود سے تعلق رکھنے والےاسپنر معاذ خان کا شمار بھی چندایسے کھلاڑیوں میں ہوتا ہے کہ جو ڈویلمپنٹ پروگرامز سے لاہور قلندرز کاحصہ بنے ہیں۔ ٹیم کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید کا کہنا ہے معاذ خان گگلی اور فلپر کے ماہر ہیں جو نئی گیند کروانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔معاذ خان حال ہی میں ٹی ٹین لیگ میں بھی قلندرز کی نمائندگی کرچکے ہیں۔زیدعالم کی کہانی بھی خاصی منفرد ہے، زید عالم کے والد چائے کا کاروبار کرتے ہیں ۔ نوجوان کرکٹر بھی اپنے اسٹال پر اپنے والد کے ساتھ کام کرتے تھے اور فارغ اوقات میں گلیوں میں کرکٹ کھیلتے تھے۔
زیدعالم لاہور کی گلیوں میں ٹیپ بال کرکٹ کھیلتے رہے ہیں ۔ وہ نیوزی لینڈ میں کھیلے گئے آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ 2018 میں پاکستان کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں۔ زیدعالم ایونٹ میں خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ تو نہ کرسکے مگر اب وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار چکے ہیں۔ وہ ایچ بی ایل پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔

ملتان سلطانز:
دائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلر محمد عمر ایچ بی ایل پی ایس ایل کو اپنے لیے بہترین موقع قراردیتے ہیں۔ محمدعمر ڈومیسٹک سیز ن میں سندھ کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
ملتان سلطانز نے محمد عمر کو ایمرجنگ کیٹگری میں جگہ دی ہے۔ وہ خود بھی اس موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے منتظر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایچ ابی ایل پی ایس ایل ایک شاندار ایونٹ ہے، انھوں نے مزید کہا کہ وہ ملتان سلطانز کا حصہ بننے پر خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔
شاہنواز دھنی بھی اس بڑے پلیٹ فارم پر خود کو منوانا چاہتے ہیں۔فاسٹ باؤلر شاہنواز دھنی کا تعلق سندھ کے علاقے لاڑکانہ سے ہے۔
دھنی کا مزید کہنا ہے کہ وہ اظہر محمود کے زیر نگرانی فرنچائز کرکٹ کھیلنے کا موقع ملنے پر بہت مسرور ہیں۔
نوجوان فاسٹ باؤلر نے قائد اعظم ٹرافی کے دوران 140-135 کی رفتار کے ساتھ باؤلنگ کی ۔ اس دوران انہوں نے سات میچوں میں 26 وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔

پشاور زلمی:
اسپنر ابرار احمد کے لیے ایچ بی ایل پی اسی ایل کا پلیٹ فارم نیا نہیں ،وہ 2017 میں کراچی کنگز کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔ پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف پہلے ہی انہیں جادوگر اسپنر کا لقب دے چکے ہیں۔
ابرار احمد بہترین اسپن باؤلنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ کسی بھی بلے باز پراپنی دھاک بٹھا نے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اُدھر محمد عمران راندھاوا ایک فاسٹ باؤلرہیں جو اپنی اسپیڈ اور ایکشن سے بیٹنگ لائن کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز:
گزشتہ چند سالوں سے آرش علی خان جونئیر ٹیموں میں بھرپور انفرادی کارکردگی کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ وہ محدود طرز کی کرکٹ میں نپی تلی باؤلنگ سے نہ صرف بیٹسمینوں کو پریشان کرنے بلکہ رنز روکنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔آرش خان گزشتہ سال جنوبی افریقہ میں ہونے والے آئی سی سی انڈر19 کرکٹ ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کے اسکواڈ کا حصہ تھے لیکن بدقسمتی سے وہ کوئی میچ نہیں کھیل سکے۔ آرش علی خان نے 2016 میں پی سی بی کے ایک ٹورنامنٹ میں 45 وکٹیں حاصل کی تھیں۔سال 2019 میں انہوں نے پی سی بی کے تین روزہ انڈر 19 ٹورنامنٹ میں 30 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔صائم ایوب بھی ایک عمدہ بیٹسمین ہیں،صائم نے پاکستان انڈر 16 کی نمائندگی کرتے ہوئے انڈر 16 ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ وہ گزشہ سال زخمی ہونے کی وجہ سے آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میں شرکت سے محروم رہیں گے۔صائم کا کہنا ہے وہ ذہنی اور جسمانی طورپر اس چیلنج کے لیے مکمل تیار ہیں، وہ ایچ بی ایل پی ایس ایل میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.