fbpx

فیصل آباد چیمبرآف کامرس میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا افتتاح

فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین انٹر پرینوئر کی مصنوعات کی نمائشوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر تشہیر سے نہ صرف خواتین کے کاروبار کا دائر ہ کار وسیع ہوگا بلکہ انہیں خریداروں سے براہ راست رابطوں میں بھی آسانی ہو گی۔ یہ بات فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی سابق نائب صدر محترمہ شمع احمد نے مسزعقیلہ عاطف کے ہمراہ فیصل آباد چیمبر کے آڈیٹوریم میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا ربن کاٹ کے افتتاح کرتے ہوئے بتائی۔ اس نمائش کا اہتمام فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو آبادی کے تناسب سے معاشی سرگرمیوں میں حصہ دلانے کیلئے وومن چیمبر بھر پور کوششیں کر رہا ہے جس سے پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علاوہ معاشی ترقی کی رفتار کو بھی تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس حوالے سے وومن چیمبر کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں خواتین کی ترقی کیلئے اہم خدمات سر انجام دی ہیں جبکہ حکومت اور سٹیٹ بینک نے خواتین کو سرمایے کی فراہمی کیلئے کئی پالیسیاں تشکیل دی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوان تعلیم یافتہ خواتین پر زور دیا کہ وہ وومن چیمبر کے پلیٹ فارم سے اپنے مسائل کی نشاندہی کریں تاکہ اُن کے حل کیلئے قومی سطح پر آواز بلند کی جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ مائکرو، چھوٹے اور درمیانے درجہ کا کاروبار کرنے والی خواتین کی مصنوعات کی تشہیر کیلئے قومی اور علاقائی سطح پر نمائشوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے فیصل آباد کی سرکردہ کاروباری خواتین کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ وہ ”ایک ٹیم اور ایک مقصد“ کے نعرے کے تحت کام کر رہی ہیں جن سے بہت جلد اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے اس نمائش کے انعقاد کے سلسلہ میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، نائب صدر محترمہ فرحت نثار، محترمہ عائشہ مسعود، محترمہ حنا بابر کی خدمات کو سراہا جبکہ فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بھی نمائش دیکھی اور خواتین کی مصنوعات کے معیار کو سراہا۔ خواتین کی بڑی تعداد نے اس نمائش کو دیکھا جبکہ اس سلسلہ میں مصنوعی جیولری، فیشن ڈریسز، ہوم ٹیکسٹائل، جوتوں، فوڈ پراڈکٹس کے سٹال بھی لگائے گئے تھے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!