fbpx

گدا گری از تحریر حمداللہ خان

تحریر حمداللہ خان:گدا گری
کیا پاکستان واقعی اتناغریب ہے۔اور یہاں واقعی اتنی غربت دکھائ دیتا ہیں۔اس کی زندہ مشال ہر ہسپتال،ہر سڑک،ہر گلی،ہی کوچے پر کوئ نہ کوئ مانگنے والا ضرور دکھائ دیتا ہے۔
گداگری ایک ایسا معاشرتی ناسور ہے۔ جو ایک جرم اور کاروبارکی شکل اختیار کرچکاھے۔آپکا پالا پڑ جاتا ہے۔شہر کے ہر گلی،محلے اور چوک میں لنگڑا اور لولا گداگر تو دکھاے دیتا ہے۔لیکن انتہائ صحت مند گداگر بھی دکھائیں دیتے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ گداگر کون ہے کہاں پیدا ہوتے ہیں اور کہاں جاتے ہیں۔اگر شام تک کسی ایک گداگر کی نگرانی کریں۔تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ گداگر تندرست ہو کر اپنے ٹھکانے کو پہنچ جاتے ہیں۔گداگری کی کمائی ایک تحقیق کے مطابق ان کے مالک وصول کرتے ہیں اور ان کو صرف دو وقت کی روٹی دیتے ہیں۔
وطن عزیز کی شہریوں کو سب معلوم ہے اڈوں کا علم بھی ہے اور اس کاروبار کا علم بھی ہے۔مگر اس کا علاج کوئی نہیں ہے اس نامور طبقے کی کئی اقسام ہیں۔ سب سے ہم غیر ملکی لوگوں کی نظر میں بد نام ہوتے جا رہے ہیں۔پیشہ ور گداگروں کی وجہ سے معاشرے کے مستحق افراد بھی صدقہ اور خیرات سے محروم ہوتے جا رہے ہیں ۔
یہی گداگر بعض اوقات مختلف وارداتوں کے سبب بھی بنتے ہیں۔مسجدوں اور بازاروں پر مانگنے والی عورتوں اور بچوں کا کوئی قصور نہیں۔ان کے پس پشت ایک مافیا متحرک ہے جو ان کو جبرن اس کام پر مجبور کر رہا ہے۔
ایبٹ آباد جیسے پرامن شہر میں گزشتہ دس سال سے گداگری اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔اور پاکستان کے مختلف شہروں سے خواجہ سرا اور گداگر جن کا تعلق سندھ اور پنجاب سے ہے۔لوگوں کو مجبور کرتے ہیں اور زبردستی پیسے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں عورتوں کے ساتھ بد تمیزی بھی دکھائی دیتی ہیں۔
ملک میں گداگری بڑھتی جا رہی ہے اگر معاشرے میں اس کو ابھی سے نہ روکا گیا تو ایک نامور شکل اختیار کر جائے گا جس کو روکنا مشکل نہیں ناممکن ہو جائے گا۔
اللہ تعالی ہمارے ملک پاکستان سے اس لعنت کو ختم کرے اور ہمیں حلال کی روزی کمانے کی توفیق دے( آمین)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.