fbpx

گالی دینا کتنا بڑا سنگین جرم ہے تحریر: یاسمین راشد

• اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میرے پیارے پاکستانیو جس طرح ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ کی جاتی ہے آج اس پر میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں میرے بھائیو اور بہنو سوشل میڈیا پر مجھے اگست میں ایک سال مکمل ہو جائے گا میں نے سوشل میڈیا سے بہت کچھ سیکھا بہت سے لوگوں سے میری دعا سلام ہوئی اس معاشرے میں بہت اچھے لوگ بھی ہیں اور برے بھی ہیں ہاتھ کی پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں جیسے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ویسے ہی سب انسان برابر نہیں ہوتے الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پیدا ہوئے اور اللہ پاک نے الحمدللہ ایمان جیسی نعمت سے ہم کو نوازا ہم اللہ پاک کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے ابھی میں بات کرتی ہوں ایسے لوگوں کی جس میں میل اور فیمیل بھی شامل ہیں اسلام میں گالیاں دینا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اسلام بالکل اجازت نہیں دیتا کسی کو گالیاں دینے کی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو دن رات سوشل میڈیا پر بے ہودہ گالیاں بکتے ہیں ان میں مرد بھی شامل ہے اور عورتیں بھی شامل ہیں ایسی گالیاں دیتے ہیں کے پڑھنے والے کو بھی شرم آتی ہے ہم جن سیاستدانوں کو سپورٹ کرتے ہیں ان کی خاطر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اور ایسی بیہودہ گالیاں ہوتی ہیں نہ کسی کی ماں کا احترام ہوتا ہے نہ کسی کی بہن کا احترام ہوتا ہے نہ کسی کی بیوی کا احترام ہوتا ہے جو منہ میں آتا ہے بک دیتے ہیں میرے بھائیو میری بہنوں کچھ اللہ کا خوف کرو جن سیاستدانوں کے لئے آپ گالیاں دیتے ہو میں گرنٹی سے کہتی ہوں آج آپ لوگ ان کے پاس چلے جائیں آپ لوگوں کو سلام بھی نہیں کریں گے تو پھر ایک دوسرے کو گالیاں دے کے کیوں اپنے لئے بہت دردناک عذاب تیار کرتے ہو آپ لوگوں کو شاید پتہ نہیں ہوتا جس کو گالیاں دیتے ہو کیا پتا اس کی ماں زندہ نہ ہو کیا پتا اس کی بہن زندہ نہ ہو کیا پتا اس کی بیوی زندہ نہ ہو تو سوچو جو انسان اس دنیا میں نہیں ہے ان کو آپ گالیاں دے رہے ہو تو کتنا بڑا گناہ ہوگا قرآن مجید میں اللہ پاک نے اہل ایمان کو یہاں تک حکم دیا ہے کہ غیر مسلموں کے جھوٹے معبودوں کو اور ان کے بتوں کو بھی گالیاں نہ دو. ارشاد ہوتا ہے : وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ فَيَسُبُّوا اﷲََ عَدْوًام بِغَيْرِ عِلْمٍ.ترجمہ : اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں غستاخی کرنے لگیں گے.‘‘(الأنعام، 6: 108) میرے بھائیو بہنوں سوچو جب اللہ پاک نے قرآن مجید میں نے منع کر دیا گالی دینے سے پھر اپنی جانوں کے ساتھ کیوں ظلم کرتے ہو ایک اور حدیث میں بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت میں نبی اکرم ﷺ نے گالی گلوچ کرنے کو منافق کی نشانی قرار دیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا منافق کی چار نشانیاں ہیں۔جب بولے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے،امین بنایا جائے توخیانت کرے اور جب جھگڑا ہوجائے توگالی گلوچ پر اتر آئے یہی چار نشانیاں آج منافق لوگوں میں پائی جاتی ہے جب ان کے ساتھ دلیل سے بات کرو تو وہ گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں گالی دینا کسی مسئلہ کا حل نہیں کسی کی خاطر کسی کو گالی نہ دو آپ لوگ اپنے سیاستدانوں کو سپورٹ کرتے ہو ان کو سپورٹ کریں لیکن ایک دوسرے کو گالیاں نہ دیں دلیل کے ساتھ بات کریں اگر دوسرا دلیل کے ساتھ آپ سے بات نہیں کرتا تو سوشل میڈیا نے ہم کو بہت سی آسانیاں فراہم کی اگر آپ کو کوئی ہراسمنٹ کر رہا ہے تو سائبر کرائم کو رپورٹ کریں اگر سائبر کرائم کو رپورٹ بھی نہیں کرتے تو آپ کے پاس بلاک کرنے کا آپشن موجود ہے ایسے لوگوں کو سیدھا بلاک کردیں گالی کا جواب گالی دینا ایک مسلمان کا کام نہیں ہمیں تعلیمات محمدی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے محبت،اخوت،بھائی چارے کا درس دینا چاہیئے اور علمی گفتگو کا جواب علمی اندازمیں دینا چاہیئےاور گالی گلوچ سے بچنا چاہیئے اللہ تبارک وتعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے آمین

• @IamYasminArshad