fbpx

گاڑیوں کی قیمتوں کی پرواز ویسی.تحریر.ام سلمیٰ

وفاقی وزیر صنعت خسرو بختیار نے 7 جولائی بروز بدھ کہا ہے کہ مالی سال 2022 کے بجٹ میں گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کے کاروں کی نئی کم قیمتوں کو کچھ دنوں میں لاگو کیا جانے کہ اعلان کیا جاۓ گا۔جو کے اب تک صحیح طرح لاگو نہ ہوسکی کیوں کے گاڑیوں کی کمپنیوں نے گاڑیوں پر اؤن بڑھا کر پرانی قیمت ہی وصول کر رہی ہیں اب تک کی تازہ اطلاع کے مطابق.

نئی آٹو پالیسی کے پہلوؤں کے بارے میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت نے متعدد قسموں سے تعلق رکھنے والی متعدد کاروں کا نام لیا اور قیمتوں میں ہونے والی کمی کا اعلان کیا.

انہوں نے کہا ، "ان تمام کاروں کے لئے نئی قیمتوں کا نفاذ ایک دو دن میں ہو جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں جلد ہی ایک نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے آٹوموبائل سیکٹر میں مانگ میں اچانک اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ کاروں کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ "میں یہ خوشخبری بھی دینا چاہتا ہوں کہ جیسے ہی ہم کاروں کی پیداوار میں اضافہ کریں گے اس سال اس [آٹوموبائل] سیکٹر میں تقریبا 300،000 نئی ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔”

خسرو بختیار نے کہا کہ اس سال آٹوموبائل کی پیداوار کو 300،000 کاروں تک بڑھانے اور مراعات اور دیگر اقدامات کے ذریعہ اپنی طلب کو بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

"اس آٹوموبائل شعبے کے لئے سب بنیادی مقصد یہ ہے کہ قیمتیں کم ہونے پر طلب میں اضافہ ہو
لیکن کہیں بھی قیمتیں کم ہوتی نہں دکھائی دے رہی گاڑیوں کی کمپنیاں وہی قیمت دوسرے طریقے اپنا کر حاصل کر رہی ہیں جب کے سرکاری اعلان کے مطابق اون بھی ایک مقرر کردہ حد کے مطابق لیا جہ سکتا ہے لیکن کمپنیاں ابھی تک اپنے خود کے مقرر کردہ طریقے سے اون وصول کر رہی ہے گاڑی کی قیمت میں کمی کے بعد گاڑیوں کی کمپنیوں نے فوری اون میں اضافہ کر دیا ہے اور قیمت اون ملا کر اب بھی وہی وصول کی جہ رہی ہے جو بجٹ سے پہلے تھی۔

جب کے حکومت نے چھوٹی کاروں پر سیلز ٹیکس میں کمی کے ساتھ کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) اور اضافی کسٹم ڈیوٹی (اے سی ڈی) کو بھی ختم کردیا ہے۔” خسرو بختیار نے اور بتایا تھا کے

حکومت ان اقدامات کا مقصد صارفین کو کچھ ریلیف فراہم کرنا تھا ، لیکن اب تک قیمتیں برقرار ہیں پچھلی سطح پر.

وفاقی وزیر نے یہ بھی وضاحت کی تھی کہ کار تیار کرنے والی کمپنیاں صارفین کو 60 دن سے زیادہ گاڑی کی فراہمی کی کمپنی کی طرف سے تاخیر کرنے پر صارفین کو جرمانے کی ادائیگی بھی کریں گی اور صارفین اپنی گاڑی کے موجودہ مینوفیکچرنگ اسٹیج کو آن لائن چیک کرسکیں گے۔

اب حکومت کی توجہ کار کے معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے ، جیسے جدید حفاظتی خصوصیات کا تعارف تاکہ گاڑیوں کی بر آمد کا سلسلہ بھی شروع کیا جا سکے۔ترقی کو مستحکم رکھنے کے لئے اور قیمتوں کو کم رکھنے کے لئے ملک کی انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ اڈے میں اضافہ کرنا ضروری ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اب لوکلائزیشن پر توجہ دے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی میں بھی لوکلائزیشن پر توجہ دی گئی ہے۔
ڈیوٹی ، ٹیکس میں کمی کے باوجود کار ساز لوگ قیمتوں میں ریلیف میں تاخیر کررہے ہیں حکومت اس مسئلے پر فوری توجہ دے تاکہ بجت میں دیا گیا ریلیف عوام تک صحیح معنی میں پنہچ سکے۔
@umesalma_