fbpx

گرمی اور پیاس کی شدت مگر ہمارے منفی رویے .تحریر:عمار احمد عباسی

پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں تقریباً پاکستان کے ہر صوبہ اس وقت گرمی کی شدید لپیٹ میں ہے اور انسان تو انسان جانور بھی اس گرمی سے بچنے کے لیے اللہ تعالٰی سے رحمت کی بارش کے طلب گار ہیں۔
ایک تو گرمی کی شدت اور اوپر سے شدید لوڈ شیڈنگ امراء حضرات تو اپنا گز بسر لوڈ شیڈنگ میں بھی کر لیتے ہیں مگر بے چارے غربت کے مارے گرمی کے ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ سے بھی مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔
بطور انسان اس گرمی کے موسم میں ہمیں اپنے رویے ٹھنڈے رکھنے ہونگے یعنی تحمل سے کام لینا ہوگا اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنی ہوگی جیسا کہ ڈلیوری بوائز وغیرہ جو اس گرمی کی شدت میں بھی حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنی حلال روزی کمانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔شدید گرمی میں فوڈ پانڈا والے بھائی جب آپکا آرڈر لیکر آئیں تو انہیں ایک گلاس پانی اور تھوڑی سی ٹِپ ضروری دیں۔ اس سے آپکو تو فرق نہیں پڑے گا مگر ان کا دل ضرور خوش ہوگا اور آپ کی ٹپ سے وہ کوئی امیر بھی نہیں ہوگا مگر ہاں اس کی حوصلہ افزائی ضرور ہوگی۔فوڈ پانڈا وغیرہ کے ڈیلیوری بوائز موسم کی تمام شدتیں برداشت کر کے رزق حلال کماتے ہیں مگر ریسٹورانٹس کا ان سے رویہ درست نہیں ہوتا ۔۔ کچھ دن پہلے کی ہی بات ہے جب ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں لکھا تھا کہ رائڈرز یہاں سے پانی نہیں پی سکتے۔ اب ان دنوں گرمی کا حال دیکھیں اور یہ ریسٹورنٹ ان رائڈرز کو پانی پلانے کا روادار بھی نہیں اور کولر پر لکھ کر لگا رکھا ہے کہ رائڈرز اس سے پانی نہیں پی سکتے ۔۔۔ ان رائڈرز کے زریعہ اپنا کھانا بیچ کر کمانے والوں کے اس انسانیت سوز رویے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

فوڈ پانڈا والا رائڈر , عید کے تینوں دن بغیر تھکے، بغیر رکے، بغیر نیند پوری کیے کس کے لیے بھاگ دوڑ کر رہا ہے؟
یہ غیرت مند مرد عورت کو پاٶں کی جوتی نہیں سمجھتا ، نہ کپڑے دھونے والی مشین اور نہ ہی چائے گرم کرنے والی آیا….. یہ اسے اپنی زندگی کا حصہ سمجھتا ہے، کبھی ماں کے طور پر، کبھی بہن، کبھی بیوی اور کبھی بیٹی کے طور پر…. پھر بھی کسی کو ان رشتوں سے آزادی چاہیے تو لے لے آزادی۔۔۔
انسان تو انسان اب جانور بھی گرمی کی شدت کی وجہ سے پیاسا پھر رہے ہیں جو کہ کچھ دن پہلے ایک پیاسا چیتا پیاس کی شدت برداشت نہیں کر سکا اور آبادی میں آ گیا کوٹلی آزادکشمیر میں گرمی کی شدت سے نڈھال چیتا آبادی میں گھس آیا۔بھوک پیاس سے نڈھال چیتے نے آبادی کا رخ کرلیا،چیتے کے آبادی میں گھسنے کی اطلاع آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا، شہریوں نے چیتے کو پکڑ کر پانی اور جوس پلایا، تصاویر بنائیں، شہریوں نے بعد میں چیتے کو محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کردیا۔

اس لیے اللہ نے اگر انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے تو اس درجے کا پاس رکھیں اور مخلوق خدا کو بھی یاد رکھیں اور اپنی چھتوں پر پانی ضرور رکھیں تاکہ بطورِ انسان آپ کو اپنے اشرف المخلوقات ہونے پر فخر ہوسکے۔