fbpx

گرمیوں کی چھٹیاں(افسانہ)  تحریر:محمد وقاص شریف

جون 1994 گرمیوں کی چھٹیاں یکم جون کو کر دی گئی اور ہمیں آٹھویں کلاس کا ہوم ورک بہت زیادہ ملا، جسے دیکھ کر سر ہی چکرا گیا، گھر سے پیسے لئے اور سندھیلیانوالی میں اس وقت دو مشہور جنرل سٹور تھے، سرور کتاب گھر اور نسیم کتاب گھر وہاں سے ہوم ورک لکھنے کے لئے دستے خریدے، ونگ سینگ پین، مارکر اور دیگر سامان خرید کر گھر کی راہ لی، دوسرے دن صبح ہوم ورک لکھنے کے لئے ناشتے کے فوراً بعد ہی گھر میں موجود پیپل کے درخت کے نیچے زبردست پانی کا چھڑکاؤ کیا، میز کرسی لگا کر ہوم ورک لکھنا شروع کر دیا، اور دو ہفتوں کے اندر سارا ہوم ورک لکھ کر سائیڈ پر مارا، اسی دوران ایک دوست جسنے آفر دی میرا کام بھی لکھ دو اور معقول پیسوں کی آفر دی، جسکو آدھا کام لکھ دیا، دیکھا دیکھی میں دو دوست اور بھی آ پہنچے، انکو بھی تھوڑا بہت لکھ دیا، 

اس دن جون کی پچیس تاریخ گرم دوپہر تھی، پیپل کے نیچے بیٹھ کر دوست کا ہوم ورک لکھ رہا تھا، اس دن لو کافی زیادہ تھی، پیپل کے گھنے درخت کے نیچے بہت سکون تھا، میرا ہاتھ ہوم ورک لکھنے کے لئے بجلی کی تیزی سے چل رہا تھا، اور اپنے آپ کو کوس رہا تھا، اپنا کام لکھ کر کیوں کسی دوسرے کی حامی بھری، یہی خیالات آتے ٹیوب ویل پر نہانا نمک مرچ لگا کر کچے آم کھانا، شام کو کرکٹ کھیلنا لیکن دوستوں کی پھٹیک نکال رہا تھا، 

اسی دوران ایک چھوٹا بچہ معصوم سا چہرہ لئے میرے پاس آیا، میری طرف دیکھا اور کاغذ کا ٹکرا پھنک کر بھاگ کھڑا ہوا، رول کئے ہوئے کاغذ کو کھول کر پڑھا تو آنکھوں پر یقین ہی نہ آیا سمجھا شاید کسی دوست نے مذاق کروایا ہے، لکھا تھا دوپہر دو بجے لمبے کھالے پر انتظار کروں گی لازمی آنا، دل کی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کیساتھ ہم نے جانے کا فیصلہ کیا، لیکن ابھی دو گھنٹے رہتے تھے، اور ایک ایک لمحہ گِن کر گزار رہا تھا، لش پش بھی کر لی، دو تین بار آئینہ دیکھا مسکرا دیا، پہلی دفعہ کسی کو ملنے جانا تھا، اور وہ بھی خط بھیج کر بلایا گیا، جسکے بارے میں سوچ کر ہی من میں خوشی کے نگارے بج رہے تھے، سیکو فائیو کی ٹو ٹو والی گھڑی ہاتھ میں باندھ کر وقت دیکھ رہا تھا، ایسے لگتا تھا جیسے آج وقت کی نبض ہی روک گئی ہو، 

جون کی تپتی دوپہر اور جھلسا دینے والی لُو میں ہم گھر سے نکلے باہر گرمی کی وجہ سے ہو کا عالم تھا، گلی میں دو دوست ملے جنکو دور جانے کا بہانہ بنا کر چلتا کیا، گاؤں سے باہر نکل کر کھیتوں میں آ چکا تھا، کسانوں نے کھیتوں میں دھان کی پنیری کاشت کر لی تھی، اور ابھی سارے کھیت خالی تھے جن میں مہینہ بعد دھان کی پنیری کاشت ہونی تھی، کھیتوں کے کنارے لگے درختوں کے نیچے چرند پرند گرمی کی وجہ سے منہ کھولے سستا رہے تھے، دور دیکھنے سے ایسے لگتا تھا جیسے زمین سے بھاپ نکل رہی ہو، 

لمبے کھالے پر ہم پہنچنے والے ہی تھے، ایسے لگتا تھا جیسے دل بیٹھ رہا ہو، لیکن خوشی بھی محسوس ہو رہی تھی، 

لیکن کسی اور کے آ جانے کا ڈر بھی ستائے جا رہا تھا، ہم لمبے کھالے کی پگڈنڈی پر چڑھ چکے تھے، مطلوبہ جگہ پہنچنے کا سفر شروع ہو چکا تھا، طائرانہ نگاہ ہر طرف دیکھ رہا تھا، اور اپنی خوش قسمتی پر شاداں بھی تھا، مگر مجھے حیرانگی یہ ہوئی ماہ جیبیں میرے سے پہلے وہاں پہنچ چکی تھی، اور مجھے آتا دیکھ رہی تھی، اسکی تیز نگاہوں سے ایسا لگا جیسے ہم پگڈنڈی سے گرنے لگے ہوں، اپنا سفر جاری رکھا اسکے پاس پہنچ گئے، ماہ جبیں جو سر تا پا حسن کا شاہکار تھی ہمیں دیکھ کر مسکرا دی، ہم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو بولی آپکو زحمت دی مجھے افسوس ہے، لیکن کیا کروں آپکی شہریت سنی کہ آپ گرمیوں کی چھٹیوں کا کام لکھ کر دے رہے ہو، تو پلیز میرا کام بھی لکھ دیں بھائی، ہماری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا بُت بنا اسے دیکھ رہا تھا، کوئی چار کلو وزنی کاغذات کا پلندہ میرے ہاتھوں میں رکھ کر بولی میرا کام خوش خط لکھنا آپکو شکریہ کا خط بھی لکھوں گی اور چلتی بنی

پھر کیا ہم تھے چار کلو وزن تھا، تیز لُو اور گرم دوپہر میں واپسی کا سفر، اور گرمیوں کی چھٹیوں کا کام.

@joinwharif