fbpx

حکومت نے گیس ٹیرف میں اضافے کیلئے آئی ایم ایف سے مہلت مانگ لی

سردیاں آنے سے پہلے گیس ٹیرف میں اضافے کے حوالے سے حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ سے مہلت مانگ لی ہے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق گیس ٹیرف میں اضافے سے 786 ارب روپے کی وصولی کا امکان ہے۔ 666 ارب روپے کے ہدف کی نسبت 120 ارب روپے اضافی آمدن کا تخمینہ ہے۔ گیس ٹیرف میں 45 فیصد سے 53 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ چھوٹے صارفین پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے گا اور اوگرا ایکٹ میں ترامیم کے مطابق نئے گیس ریٹس کا تعین ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ گیس ٹیرف کے ازسرنو تعین کیلئے مزید وقت درکار ہے، قیمتوں سے حاصل آمدنی گردشی قرضے پر خرچ کی جائے گی۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کا پس منظر

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان قرض پروگرام کی بحالی کا سٹاف لیول معاہدہ طے پانے کے بعد آئی ایم ایف پاکستان کو ایک ارب 17 کروڑ ڈالر فراہم کرنا تھا. پاکستان کی موجودہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے سنہ 2019 میں طے پانے والے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے اقتدار میں آنے کے بعد سے کوشاں تھی۔

اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف شرائط کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ، بجلی کے نرخ بڑھانے، اضافی ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے اور انڈسٹری پر ٹیکس کی شرح بڑھانے اور کچھ دوسری شرائط پر عمل کیا گیا تھا۔

آئی ایم ایف کی جانب سے اس موجودہ پروگرام کے تحت چھ ارب ڈالر میں سے تین ارب ڈالر پاکستان کو مل چکے ہیں جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اب قرض کی مد میں فراہم کی جانے والی رقم تقریباً چار اعشاریہ دو ارب ڈالر ہو جائے گی جبکہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد کل رقم کو چھ ارب ڈالر سے بڑھا کر سات ارب ڈالر کیا جا سکتا.

پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں کی تاریخ کیا ہے؟

پاکستان کی آئی ایم ایف پروگراموں میں شمولیت کے بارے عالمی ادارے کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ ابھی تک 22 پروگرام ہوئے اور پہلا پروگرام دسمبر 1958 میں طے پایا جس کے تحت پاکستان کو ڈھائی کروڑ ڈالر دینے کا معاہدہ طے پایا۔

اس کے بعد آئی ایم ایف پروگراموں کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا اور آخری اور موجودہ پروگرام کے معاہدے پر جولائی 2019 میں دستخط ہوئے جس کے تحت پاکستان کو چھ ارب ڈالر ملنے تھے جس میں سے تین ارب ڈالر مل چکے ہیں اور باقی تین ارب ڈالر کے لیے موجودہ حکومت کے عالمی ادارے سے مذاکرات جاری ہیں۔

آئی ایم ایف پروگرام کی تاریخ کے مطابق فوجی صدر ایوب خان کے دور میں پاکستان کے آئی ایم ایف سے تین پروگرام ہوئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں بننے والی پہلی حکومت کے دور میں پاکستان کے آئی ایم ایف سے چار پروگرام ہوئے۔فوجی صدر جنرل ضیاالحق کے دور میں پاکستان نے آئی ایم ایف کے دو پروگراموں میں شرکت کی۔

پی پی پی کی دوسری حکومت میں بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں پاکستان آئی ایم ایف کے دو پروگراموں میں شامل ہوا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پہلی حکومت میں ایک آئی ایم ایف پروگرام میں پاکستان نے شمولیت اختیار کی۔ بے نظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں پاکستان آئی ایم ایف کے تین پروگراموں میں شامل ہوا تو نواز شریف کی دوسری وزارت عظمیٰ میں پاکستان نے دو آئی ایم ایف پروگراموں میں شمولیت اختیار کی۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں دو آئی ایم ایف پروگرام ہوئے، پی پی پی کی 2008 سے 2013 میں بننے والی حکومت میں ایک پروگرام، پاکستان مسلم لیگ نواز کی 2013 سے 2018 میں حکومت میں ایک پروگرام اور پاکستان تحریک انصف کے دور میں ایک آئی ایم ایف پروگرام میں پاکستان شامل ہوا جو تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد نواز لیگ کی سربراہی میں مخلوط حکومت نے جاری رکھا۔