جنرل قمر باجوہ کو تین سال کی توسیع دینے کا فیصلہ کر لیا گیا، بین الاقوامی میڈیا کا دعویٰ، حکومت کا موقف سامنے نہیں آسکا

پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کوبعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے تین سال کیلئے توسیع دیے جانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے تاہم حکومت کی طرف سے ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سال کی توسیع دیے جانے کا دعویٰ سب سے پہلے نامور صحافی اور تجزیہ نگار عارف نظامی کی جانب سے کیا گیاجنہوں نے تین دن قبل یہ بات نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل باجوہ کے پیشرو فوج میں دھڑے بندی پر یقین رکھتے تھے اور پرویز مشرف بھی مبینہ طور پر صرف اپنے یاروں دوستوں کو پرموٹ کرتے تھے لیکن قمرجاوید باجوہ میرٹ پر پوسٹنگ اور ٹرانسفر کرتے ہیں۔عارف نظامی کا کہنا تھا کہ میری مستند اطلاع یہ ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کے بعد بھی ایک سال کے لئے نہیں بلکہ تین سال کیلئے ہمارے آرمی چیف رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے نواز شریف کے ساتھ اچھے ورکنگ ریلیشن تھے لیکن معاملہ ڈان لیکس پر آکر خراب ہوا کیونکہ میاں نواز شریف نے کہا کہ فلاں آدمی کو فارغ کریں اور فلاں آدمی معافی مانگے۔

عارف نظامی نے نواز شریف کی اپنے ہی لگائے ہوئے آرمی چیفس کے ساتھ نہ بننے کے حوالے سے بتایا کہ ’جب انہیں جنرل وحید کاکڑ نے فارغ کیا تھا تو اس وقت سابق وزیر اعظم کے طور پر نواز شریف نے مجھے کہا عارف صاحب، اب میں کسی جنرل پر اعتماد نہیں کروں گا۔عاف نظامی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنرل وحید کاکڑ کی جانب سے نواز شریف کو فارغ کیے جانے کے بعد ہم نے دیکھا کہ نواز شریف کی جنرل جہانگیر کرامت سے نہیں بنی، مشرف کے ساتھ تو سب نے دیکھ ہی لیا۔ ان کی جنرل راحیل شریف اور قمر جاوید باجوہ سے بھی نہیں بنی۔

سینئر صحافی عارف نظامی کے اس دعویٰ کے بعد ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں یہ بحث چھڑ گئی ہے اور آج گلف نیوز سمیت دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو 29نومبر کے موقع پر ریٹائرمنٹ کی بجائے تین سال کی توسیع دے دی جائے گی تاہم یہ بات بھی واضح رہے کہ ان سب خبروں کے باوجود ابھی تک حکومت کی طرف سے اس سلسلہ میں کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.