fbpx

جنرل بپن راوت کومقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے قاتل کے طورپر یاد رکھا جائیگا:مشعال ملک

بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کو انسانیت کے قاتل کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ بھارتی فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے دور میں غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو ا تھا ، ان خیالات کا اظہار کشمیری رہنما یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کیا ہے ،

یاد رہے کہ بپن راوت گزشتہ سال 8دسمبر کو بھارتی ریاست تامل ناڈو میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے

چئیرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک نے کہاہے کہ بھارتی آرمی چیف کی حیثیت سے ان کے دور میں مقبوضہ کشمیر میں تشویشناک حد تک کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔

مشعال حسین ملک کاکہناتھا کہ بدنام زمانہ بپن راوت نے بھارت کو مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ جگہ بنانے کے آر ایس ایس کے تربیت یافتہ نریندر مودی کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وادی کشمیر کو جہنم میں تبدیل کر دیا۔مودی بھارت کو اقلیتوں سے پاک کرنے کے ظالمانہ مشن پر ہیں۔

مشعال ملک نے کہا کہ دنیا کو بھارت میں جاری مسلمانوں مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر اقوام پر ہونیوالے مظالم کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ مودی دور حکومت میں ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا۔

 

 

چئرمین پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال ملک کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں انتہائی دائیں بازو کے ہندو رہنما کھلے عام مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر بلا روک ٹوک حملے عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج ہے۔ عالمی برادری اور عالمی طاقتوں کو بھارت کو اقلیتوں کے خلاف اس کے جرائم کا جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

یہ بھی یاد رہے کہ جنرل بپن راوت آر ایس ایس کا کارکن اور مودی کا دائیاں ہاتھ تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت اوراپنے تعصب کے لیے بدنام اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث تھے ۔جنرل راوت کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ان دھمکیوں سے ان کا کشمیرمخالف تعصب ظاہرہوتاہے ۔

رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بپن راوت کے جارحانہ بیانات سے ان کی ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی ہوتی تھی اور انہوں نے پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکانے کو رواج بنایا ۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے جنرل بپن راوت کی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طورپر تقرری کیلئے یہ عہدہ قائم کیاتھا تاکہ وہ بھارتی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہندوتوا کاز کی خدمت کرسکیں۔