جنرل ہسپتال کی حدود میں فائرنگ، ایمرجنسی میں دو گروپس کا جھگڑا،پرنسپل کا اظہار تشویش 

پرنسپل پی جی ایم آئی کا ہسپتال کی فول پروف سیکورٹی کیلئے آئی جی سے فوری اضافی نفری تعینات کرنے کا مطالبہ 
عملے اور مریضوں کا تحفظ یقینی بنائیں گے،نظم و نسق میں کسی کو خلل ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی: پروفیسر الفرید ظفر

پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے سوموار اور منگل کی درمیانی شب جنرل ہسپتال کی حدود میں فائرنگ اور ایمرجنسی میں دو گروپس کے درمیان جھگڑے  پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ حکام سے کہا ہے کہ جنرل ہسپتال کی سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں اور عملے و مریضوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اضافی نفری تعینات کی جائے۔تفصیلات کے مطابق یہ دونوں گروپس کا تھانہ لیاقت آباد کی حدود میں جھگڑے کے بعد طبی امداد اور ایم ایل سی کے لئے ہسپتال آئے تھے جہاں ایک دوسرے کو دیکھ کر دوبارہ انہوں نے اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا اور مارپیٹ کے بعد نوبت فائرنگ تک پہنچ گئی جس سے ہسپتال میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جنرل ہسپتال کو بھی ہدایت کی کہ وہ ہسپتال میں غنڈہ گردی کے مرتکب اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف فی الفور مقدمہ درج کروائیں تاکہ آئندہ ہسپتال کی حدود میں فائرنگ جیسا واقعہ رونما نہ ہو سکے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتال میں بڑھتے ہوئے لڑائی جھگڑے کے واقعات نے نہ صرف ڈاکٹرز،پیرا میڈیکس کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ مریض اور ان کے لواحقین بھی خوفزدہ ہوتے ہیں جو انتہائی باعث تشویش امر ہے۔پروفیسر الفرید ظفر نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے معاملات و جھگڑے ہسپتال کے باہر نمٹائیں اور ہسپتال کا نظم و نسق خراب نہ کریں۔انہوں نے آئی جی پنجاب اور سی سی پی او سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ میں عناصر کے خلاف فی الفور گرفتار کر کے قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے اور آئندہ کے لئے ایسے واقعات کی روک تھام کی جائے۔ 

پولیس تھانہ کوٹ لکھپت نے محمد فیصل شوکت کی درخواست پر مقدمہ نمبر 2800/20درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔ ایف آئی آر کے مطابق شیرا بھٹی گروپ کی فائرنگ سے مدعی کا بھائی ندیم نامی شخص زخمی ہو گیا اور ملک واصف کا فائر 1122کی گاڑی کو لگا۔ مقدمے میں محمد فیصل شوکت نے کہا کہ شہباز نے بھی فائرنگ کی اور دھمکیاں دیتے ہوئے دیگر ساتھیوں کے ساتھ فرار ہوگئے۔پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.