fbpx

جنرل ہسپتال میں مریضہ کی ہلاکت، انکوائری کمیٹی تشکیل

جنرل ہسپتال میں مریضہ کی ہلاکت، انکوائری کمیٹی تشکیل

پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال میں ڈاکٹر ز کی مبینہ غفلت سے مریضہ کی ہلاکت کے بارے میں ایک نجی چینل پر چلنے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کیلئے 4رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کے سربراہ پروفیسر جودت سلیم ہوں گے جبکہ دیگر ممبران میں پروفیسر خضر حیات، ڈاکٹر اسرار الحق طور اور ڈاکٹر جعفر شاہ شامل ہیں جو دو یوم کے اندر اس واقعہ کی ہر پہلو سے تحقیقات کر کے اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کریں گے۔ جنرل ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق 32سالہ مریضہ حنا نامی مریضہ کو 6نومبر رات 9:15کے قریب شوگر کی زیادتی اور بخار کے باعث لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی میں لایا گیا تھا اور اُس وقت کی میڈیکل رپورٹس کے مطابق مریضہ کی شوگر 483اور پلیٹ لیٹس23ہزار کے قریب تھے۔ایمرجنسی میں ڈاکٹروں نے مریضہ کا مکمل طبی معائنہ کر کے ضروری ادویات دیں اور ڈینگی سمیت دیگر ٹیسٹ کروائے اور مریضہ کو وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔اس دوران ڈاکٹروں نے مریضہ کے لواحقین کو پلیٹ لیٹس کی کمی دور کرنے کے لئے خون کا انتظام کرنے کو بھی کہا۔ڈاکٹروں اورنرسز نے مریضہ پر بھرپور توجہ دی تاہم 2دن زیر علاج رہنے کے بعد جانبر نہ ہو سکی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ مریضہ قبل ازیں صوبائی دار الحکومت کے ایک ٹیچنگ ہسپتال میں زیر علاج بھی تھیں جہاں سے مریضہ کے لواحقین اُس کو ڈاکٹرز کی اجازت کے بغیر تشویشناک حالت میں لاہور جنرل ہسپتال لے آئے تھے جہاں ڈاکٹرز نے مذکورہ خاتون کی جان بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے کمیٹی کے ارکان سے کہا کہ مریضہ کے جاں بحق ہونے پر ہم سب کو لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اُن کی تسلی کے لئے اس مریضہ کی جنرل ہسپتال آمد اور دوران علاج معالجے فراہم کی جانے والی طبی و تشخیصی سہولیات کا ہر پہلوسے جائزہ لیا جائے اور اس امر کی یقین دہانی کروائی جائے کہ اُس کے علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی گئی۔ سربراہ جنرل ہسپتال نے میڈیا کے نمائندوں سے بھی اپیل کی کہ وہ خبر کی اشاعت سے قبل تصدیق کر لیا کریں تاکہ اصل حقائق عوام تک پہنچ سکیں

کل مسالک علماء بورڈ کے چیئرمین مولانا عاصم مخدوم کی باغی ٹی وی ٹیم پر پولیس حملے کی مذمت

باغی ٹی وی ٹیم پر حملہ،ملی رکشہ یونین کا سی ٹی او آفس کے سامنے احتجاج کا اعلان

یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار