fbpx

گداگری ایک معاشرتی ناسور۔ تحریر: نصرت پروین

گداگری یعنی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا، ان سے مالی معاونت طلب کرنا ایک انتہائی ناپسندیدہ اور گھناؤنا عمل سمجھا جاتا ہے۔ اسلام جہاں حقیقی مستحق، اپاہج اور معذور لوگوں کی مدد کا درس دیتا ہے وہیں بلا وجہ گداگری کو ایک برا معاشرتی فعل کہہ کر سخت ممانعت بھی کرتا ہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بلا وجہ مانگنے والے کو وعید سنائی ہے کہ وہ مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اس حال میں الله سے ملے گا کہ اس کے چہرے پہ گوشت کا ایک ٹکرا بھی نہ ہوگا۔
"عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ آپ منبر پر تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے صدقہ اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کا اور دوسروں سے مانگنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والے کا۔
(صحیح بخاری۱۴۲۹)”

"رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی اپنی رسی اٹھائے اور لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس کو بیچے اور الله اس کے ذریعے اس کی آبرو بچائے رکھے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے کہ وہ دیں یا نہ دیں۔
(مسند أحمد، رقم: ۱۷۱۱۵)”
اسلام نے مانگنے سے منع کر کے رزقِ حلال کمانے پر ابھارا ہے اور اپنے ہاتھ سے کمانے کی فضیلت بھی بتائی ہے۔
بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات پر عمل سے قاصر ہے۔ گدا گری جتنی خطرناک بیماری ہے اتنی ہی تیزی سے یہ معاشرے میں سرائیت کرتی جارہی ہے۔ گداگری کو لوگ باقاعدہ پیشہ اپنا رہے ہیں۔ اور پسِ پردہ پورا ایک نیٹ ورک کام کررہا ہے جو اس گھناؤنا فعل انجام دینے والوں کو سہولیات مہیا کررہا ہے۔ اس لت میں مبتلا افراد معاشرے کے تمام چھوٹے، بڑے شہروں، گاؤں قصبوں، ہسپتالوں، دفاتر، اداروں، شاہراؤں، ٹریفک سگنلز، اور تمام چوراہوں پر موجود پائے جاتے ہیں۔ جہاں انہیں ایک مافیا مقررہ جگہوں پر چھوڑ جاتا ہے اور پھر مقررہ وقت پر واپس لے جاتا ہے۔ اسکے علاوہ مافیا انہیں موبائل فونز وغیرہ کی سروسز بھی مہیا کر رہا ہے۔۔ اور اسطرح وہ باقاعدہ اپنی اس معاشرتی لعنت کو انجام دے رہے ہیں۔
میرا ذاتی تجربہ رہا ہے کہ میں یونیورسٹی جاتے ہوئے اور یونیورسٹی سے واپسی پر پانچ سے دس منٹ سٹاپ پہ ٹھہرتی ہوں اور ان دس منٹ میں میرا تین گداگروں سے لازمی واسطہ پڑتا ہے۔ اور اکثر مقررہ وقت پہ میں مقررہ گدا گروں کو دیکھتی ہوں۔ اور وہ ہمیشہ پیسے مانگتے ہیں اگر انہیں کوئی راشن وغیرہ یا کھانے کی چیز دیں تو اکثر وہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں اور اسطرح یہ مافیا کئی ہتھکنڈے استعمال کر کے ناجائز پیسہ بٹور رہا ہے۔
گداگری جہاں بذاتِ خود ایک مرض ہے وہاں اپنے ساتھ دوسری بہت سے معاشرتی برائیوں کا سبب بھی ہے۔ گدا گروں کو جب پیسے نہ ملیں تو یہ مافیا گینگ مختلف جرائم میں ملوث ہوجاتا ہے۔ جیسے بچوں کے اغواہ اور منشیات فروشی وغیرہ۔ یہ گدا گر اکثر بچوں کو اغواہ کرتے ہیں۔ ان پر ظلم و ستم کر کے انہیں اس گندی لت گدا گری کی تربیت دیتے ہیں۔ بعض کو معذور بنا کر اس لعنت میں ملوث کرتے ہیں اور بعض کو معذوری کا ڈھونگ سکھا کر گداگری کرواتے ہیں۔ کچھ روز قبل میرے ایک جاننے والوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا ایک گداگر جو مسلسل تین دن سے ان کی گلی میں مقررہ وقت پہ آتا تھا ان کے آٹھ سالہ معصوم بچے کو اغواہ کرنے کی ناکام کوشش کی اور پھر جھٹ سے منظرِ عام سے غائب ہوگیا۔ اور اسطرح کے بہت سے واقعات ہمارے معاشرے کا روگ بنے ہوئے ہیں۔
یہ مافیا معاشرے کے حقیقی ضرورت مند مستحق طبقے کا مجرم بھی ہے کہ ان کی وجہ سے ان مستحق افراد کو بھی انکا حق نہیں مل پاتا۔ لوگ انہیں بھی گداگر سمجھتے ہیں۔ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے بارے میں منفی نظریات قائم کر لیتے ہیں۔
اس گھناؤنے فعل کو فوراً جڑ سے اکھاڑنا تو ممکن نہیں۔ لیکن اگر ہم بطور قوم اپنے حصے کی جدوجہد کریں تو معاشرے سے اس لعنت کا کسی حد تک سدِباب کیا جا سکتا ہے۔ لہذا ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ اس ناسور سے وابستہ لوگوں کی کوئی مدد نہ کریں۔ بلکہ جہاں تک ہو سکے ان کے خلاف آواز اٹھائیں۔ انکی حوصلہ شکنی کریں۔ اور اپنے صدقات وغیرہ حقیقی مستحق لوگوں تک پہنچائیں۔ تاکہ وہ ہمارے کے لئے توشۂ آخرت بنیں۔
جزاکم الله خیراً کثیرا
@Nusrat_writes